سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 631 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 631

631 مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن عیسائی مشنری کافی سرگرم تھے۔یہاں جماعت کی مسجد اور ایک مختصری جماعت تھی۔(۸) صرف لوگوں کو احمدی کر لینے سے اغراض و مقاصد پورے نہیں ہوتے۔ان میں حقیقی تبدیلی آنا اور ان کا قربانیوں میں حصہ لینا ضروری ہوتا ہے مکرم نسیم سیفی صاحب کی رپورٹ ۲۶ مئی ۱۹۴۵ء پر حضور نے ارشاد فرمایا ہمیں نام کے احمدی نہیں چاہئیے ہیں۔ہمیں کام کے احمدی درکار ہیں۔تمام احمد یوں کے نام لکھیں اور یہ کہ وہ کیا چندہ کس کس مد کا دیتے ہیں اور یہ تفصیل بھی بتائیں کہ وہ جمع شدہ چندہ کس کی اجازت سے خرچ ہوتا ہے۔جہاں تک ہو سکے خرچ میں کفایت اور مقامی لوگوں سے چندہ با قاعدہ کرنا اور تجارت کا بھی انتظام کرنا یہ تین ضروری باتیں ایسی ہیں جو ہر مبلغ کو علاوہ تبلیغ و تربیت و تعلیم کے ضرور مد نظر رکھنی ہیں۔(۹) اس بات کی ضرورت تھی کہ نائیجیریا میں جماعت کی تبلیغ کا دائرہ کار پھیلے اور اس امر کے لئے مالی وسائل کی ضرورت تھی۔اور اس بات کی ضرورت تھی کہ یہ مالی وسائل جماعتی قوائد وضوابط کے مطابق خرچ کئے جائیں۔کرم قریشی محمد افضل صاحب کی رپورٹ محررہ ۲۷ مئی ۱۹۴۶ء پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ارشاد فرمایا چندے باقاعدہ رکھیں۔اور روپیہ خود خرچ کرنے کی اجازت نہیں۔سب بجٹ با قاعدہ منظوری سے خرچ کیا جائے۔اور جب کا نو سے بجٹ حضور کی خدمت میں پیش کیا گیا تو حضور نے ارشاد فرمایا د تھوڑی سی کوشش سے یہ بجٹ اپنی ضروریات کو پورا کر کے ایک اور جماعت کھڑی کرنے کا موجب ہو سکتا ہے۔وہاں کی جماعت کو بھی خوشنودی کا خط لکھا جائے۔اور لکھا جائے کہ بجٹ کی مضبوطی سے ہی وہاں کی جماعت بڑھے گی اور پھر آپ اپنے ارد گرداور مشن قائم کرنے میں انشاء اللہ کامیاب ہو جائیں گے۔(۱۰) تمرم م فضل الرحمن حکیم صاحب نومبر ۱۹۴۷ء میں نائیجریا سے پاکستان کے لئے روانہ ہوئے۔آپ نے ۲۶ سال مغربی افریقہ میں خدمات سرانجام دیں۔اور اس دوران صرف تین سال کے