سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 607 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 607

607 ستانے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں تو سفید رنگ کا ایک شخص ہاتھ میں قرآن کریم اور بائیبل پکڑے آ رہا ہے۔اور سلام کر کے پوچھتا ہے کہ اس مسجد کا امام کون ہے۔چند روز بعد یہ صاحب مسجد کے قریب گھاس کاٹتے ہوئے تھک گئے تو سستانے کے لئے پام کے درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے۔اتنے میں مکرم مولانا نذیر احمد صاحب وہاں آئے اور پاسننا صاحب نے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ وہی صاحب ہیں جو خواب میں دکھائے گئے تھے۔مکرم مولانا صاحب نے ان سے رہائش کی جگہ کا دریافت کیا۔اس دوست نے فوراً اپنا گھر رہائش کے لئے پیش کر دیا اور مسلمانوں کو اپنی خواب کے پورے ہو جانے کا واقعہ سنایا۔یہ نشان دیکھ کر اور مولانا نذیر احمد صاحب کی تبلیغ سن کر اس گاؤں کے کئی مسلمانوں نے احمدیت قبول کر لی۔اور اس طرح یہ گاؤں اس علاقہ میں احمدیت کا ایک چھوٹا سا مرکز بن گیا۔مکرم نذیر احمد صاحب علی کی مساعی جمیلہ سے کام کا آغاز تو ہو گیا تھا لیکن جب تک مقامی مبلغین تبلیغ کے کام میں آگے نہ آئیں اُس وقت تک صحیح معنوں میں تبلیغ اور تربیت کا کام نہیں ہو سکتا۔اب اس گاؤں اور اس کے نواح میں سو کے قریب لوگ احمدیت قبول کر چکے تھے۔ایک مقامی دوست عمر جاہ صاحب کو وہاں پر مبلغ مقرر کیا گیا۔اب رفتہ رفتہ احمدیت کا نام پورے علاقے میں پھیل رہا تھا۔ابھی مکرم نذیر احمد صاحب علی Baowahun میں ہی تھے کہ آپ کو گورا ما چیفڈم (Gorama)کے پیرا ماؤنٹ چیف کا پیغام ملا کہ آپ ان کے علاقے میں آئیں چنانچہ آپ اُس دور افتادہ علاقے میں تشریف لے گئے۔یہ چیف صاحب ۲۰ سال سے ایک بیماری میں مبتلا تھے۔اور ان کا خیال تھا کہ دشمنوں کے جادو کی وجہ سے انہیں یہ بیماری لاحق ہے۔اُنہوں نے مولانا نذیر احمد صاحب علی کو دعا کے لئے کہا اور پیشکش کی کہ وہ اس کے لئے آپ کو ایک خطیر رقم پیش کریں گے۔مگر آپ نے کہا کہ اس کی بجائے تم وعدہ کرو کہ تم اسلام قبول کر کے ایک حقیقی مسلمان بن جاؤ گے۔یہ چیف صاحب مان گئے اور اگلے روز اپنے تمام بت اور تعویذ مولانا نذیر احمد صاحب کے حوالے کر دیئے۔اور آپ نے کئی لوگوں کی موجودگی میں ان بتوں اور تعویذوں کو زمین میں دبا دیا۔چیف صاحب کی سو سے زائد بیویاں تھیں۔مولانا نذیر احمد صاحب علی نے کہا کہ اب تم اسلامی تعلیم کے مطابق صرف چار بیویاں اپنے پاس