سلسلہ احمدیہ — Page 580
580 نگران بورڈ کی وساطت سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں اپیل کرنے کا حق سب کو حاصل ہوگا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی طرف سے یہ آپ کی ذات پر اعتماد کا اظہار تھا کہ نگران بورڈ کے صرف وہ فیصلے واجب العمل قرار دئیے گئے تھے جن میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا اتفاق رائے شامل ہو (۲۱)۔اس کا پہلا اجلاس حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی صدارت میں تحریک جدید ربوہ کے کمیٹی روم میں مورخہ ۲۳ اپریل ۱۹۶۳ء کو منعقد ہوا۔اس میں فیصلہ کیا گیا کہ طریقہ کار یہ ہوگا کہ اگر کسی جماعت یا کسی دوست کو کسی شعبے میں کوئی نقص نظر آئے تو وہ پہلے اُس شعبے کے انچارج کو لکھ کر بھجوائے اور اگر مناسب سمجھے تو اس کی کاپی متعلقہ تنظیم کے صدر کو بھی بھجوا دے۔اگر مناسب وقت گزرنے کے بعد وہ یہ محسوس کریں کہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو پھر نگران بورڈ کو توجہ دلائی جائے (۳) مکرم و محترم مرزا عبد الحق صاحب امیر جماعت سرگودھا اس بورڈ کے سیکریٹری مقرر ہوئے۔اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات کے بعد آپ نے اس بورڈ کی صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے علاوہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب صدرصد را نجمن احمدیه مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب صدر تحریک جدید ، مکرم حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر صدر وقف جدید ، مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ، حضرت مرزا عبد الحق صاحب ، مکرم چوہدری انورحسین صاحب اس کے ابتدائی ممبران تھے۔(۴) اس بورڈ نے اپنے فرائض ادا کرنے شروع کئے۔اور اس کے اجلاسات میں مختلف مسائل پیش کئے جاتے جن کا تعلق تینوں انجمنوں میں رابطے اور دیگر اہم جماعتی مسائل سے ہوتا۔یہ بورڈ ۱۹۶۵ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی وفات تک کام کرتا رہا اور پھر اسے ختم کر دیا گیا۔(۱) رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۶۱ء ص ۳۵ تا ۴۶ (۲) رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۶۲ء ص ۵۹ (۳) الفضل ۲۶ اپریل ۱۹۶۱ء ص ۱ (۴) رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۶۲ ء ص ۱۰