سلسلہ احمدیہ — Page 498
498 اختیار کر لیا۔۱۹۵۵ء کی مجلس شوری حضور کی بیماری کے دوران ہو رہی تھی۔اور مولوی عبد المنان صاحب مجلس شوری کی مالی سب کمیٹی کے ممبر تھے۔اور اس ممبر کی حیثیت سے وہ سب کمیٹی کے اجلاس میں کسی بھی مالی معاملے کے متعلق سوالات اُٹھا سکتے تھے۔لیکن شوری میں یا سب کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے کوئی اعتراض پیش نہیں کیا۔مگر جب پرائیویٹ مجلس میں مکرم چوہدری انور حسین صاحب امیر ضلع شیخو پورہ (جو خود بھی مالی سب کمیٹی کے ممبر تھے ) سے ملے تو یہ اعتراضات شروع کر دیئے کہ لاکھوں کا حساب جماعت کے سامنے رکھا ہی نہیں جاتا۔باہر والوں کو پتہ ہی نہیں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے متعلق ولیعہد کا لفظ استعمال کیا اور یہ بھی کہا کہ وہ کو کین استعمال کرتے ہیں۔ان مواقع پر بعض اور عہدیدار بھی موجود تھے۔مکرم چوہدری انور حسین صاحب ذاتی طور پر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو اچھی طرح جانتے تھے ،اس لئے انہوں نے سختی سے ان لغو الزامات کی تردید کر دی۔لیکن ان کو یہ خیال ضرور آیا کہ اگر ان کا کوئی واقف اس قسم کی گفتگو کے دوران انہیں ملنے آئے تو وہ غلط اثر قبول کر سکتا ہے۔(۱۳) ان باتوں کے باوجود حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو نائب وکیل التصنیف مقر فرمایا۔تا کہ اس طرح خدمت دین میں آکر آپ میں مثبت رحجانات پیدا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول نے مسند امام احمد بن حنبل کی تبویب کا کام شروع کیا تھا جو نامکمل رہ گیا تھا۔مولوی عبد المنان صاحب نے جامعہ احمدیہ کے بعض طلبہ کے ساتھ مل کر اسے مکمل کرنے کا کام کیا (۱۴)۔(مسند میں راویوں کے حساب سے احادیث درج کی ہوتی ہیں یعنی ایک راوی کی بیان کردہ احادیث ایک ساتھ درج ہوتی ہیں۔تبویب میں ان احادیث کو موضوعات کے حساب سے درج کر دیا جاتا ہے۔) حضرت خلیفہ امسیح الاول کی اولاد میں آپ علمی ذوق رکھنے والے تھے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی کوشش سے آپ کو ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک سیمینار پر مدعو کیا گیا۔چنانچہ آپ پندرہ جون کو ربوہ سے امریکہ کے لئے روانہ ہو گئے۔پروگرام تھا کہ سیمینار کے اختتام پر آپ یوروپی ممالک اور کچھ اسلامی ممالک سے ہوتے ہوئے پاکستان واپس آئیں گے۔جب یہ فتنہ منظر عام پر آیا تو آپ ابھی امریکہ میں ہی تھے۔(۱۵) اس گروہ کے روابط ایسے شریر گروہ کے ساتھ تھے جور بوہ میں رہ کر نظام جماعت کے خلاف