سلسلہ احمدیہ — Page 396
396 باوجود سمجھانے کے ہجوم نے پتھراؤ کیا اور عمارت کو آگ لگانے کی کوشش کی۔پولیس نے اپنے دفاع میں گولی چلادی جس کے نتیجے میں چھ شخص ہلاک اور تیرہ زخمی ہو گئے۔مرنے والوں کی ہمدردی کے لئے متعدد مقامات پر جلسے منعقد ہوئے۔عدالت نے تحقیقات کیں تو اس نتیجے پر پہنچے کہ گولی چلا نا حق بجانب تھا۔اب جن بوتل سے باہر آچکا تھا۔اور ملک کے قانون کو اپنے ہاتھوں میں کھلونا سمجھ رہا تھا۔اب ان کے جلسے جلوسوں اور گالیوں میں شدت آگئی تھی۔سر عام احمدیوں کو ،اُن کے بزرگوں کو اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو نخش گالیاں دی جاتی تھیں۔عوام الناس کو ہر ممکن طریق سے احمدیوں کے خلاف اکسایا جا رہا تھا۔چنانچہ لائکپور کے ایک جلسے میں ایک مقرر نے ان کے مطالبات کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا، مرزائیو ہمارا احسان مانو کہ ہم تمہیں اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ورنہ قرآن کی زبان سے پوچھا جائے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں انسانیت کے دائرے سے خارج کر دیا جائے۔(۶۴) اب وہ بر ملا کہہ رہے تھے کہ اگر وزراء نے ہمارے مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا تو انہیں حکومت چھوڑنی پڑے گی۔(۶۵) لیکن بہت سے ارباب اقتدار ابھی بھی سمجھ رہے تھے کہ وہ اس صورتِ حال کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر کے اس جن کو قابو کر لیں گے۔مگر تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔اب دہشت کی ایسی فضا قائم کی جا رہی تھی کہ جو شریف آدمی ان کی حرکات سے اختلاف کرے اور انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھے وہ بھی خاموش رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھے۔چنانچہ جب جولائی ۱۹۵۲ء میں ہوم سیکریٹری نے پنجاب کے صوبے میں بگڑتی ہوئی صورتِ حال دیکھی تو انہوں نے اختر علی خان ایڈیٹر زمیندار اور دیگر ایسے اخبارات کے ایڈیٹروں سے بات چیت کی اور اُن کو صورتِ حال سمجھائی۔وہ اپنے طور پر کوششیں کر رہے تھے کہ صورت حال سنبھل جائے۔اُس وقت یہ لوگ مطمئن ہو کر واپس گئے لیکن سوائے ایک کے کسی اور نے اپنے اخبار میں کوئی کلمہ خیر لکھنے کی تکلیف گوارا نہ کی۔بلکہ اپنے اخبارات میں احرار کے اقوال و دعاوی کی تائید کو جاری رکھا۔پھر ہوم سیکریٹری نے حمید نظامی ایڈیٹر نوائے وقت اور مظہر علی خان صاحب کو بلایا اور اُن پر واضح کیا کہ ان کو بلانے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ انہیں پوری پوزیشن سمجھا دیں۔اس کے بعد وہ آزاد ہیں کہ جو چاہیں