سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 391 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 391

391 جب گھر کے ایک حصے کو آگ لگے تو یہ آگ وہیں تک محدود نہیں رہتی بلکہ دوسرے حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔اب یہ واقعات احمد یوں تک محدود نہیں رہے تھے۔بلکہ دوسرے فرقے بھی اس قسم کے واقعات کا نشانہ بن رہے تھے۔اسی طرح کے حملے شیعہ مجالس پر بھی شروع ہو گئے تھے۔(۵۲) اس معاملے میں پہلے ہی سی آئی ڈی حکومت کو رپورٹ دے چکی تھی کہ بات صرف احمدیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ شیعہ سنی اور وہابی سنی اختلافات بھی بڑھ کر امن کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔اور مختلف فرقوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے پنجاب میں اضطراب بڑھ رہا ہے۔(۵۳) افسوس کہ وقت پر ان خطرات کو محسوس نہیں کیا گیا۔جماعت احمد یہ تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تھی لیکن احمدیت کی مخالفت کی آڑ میں فرقہ واریت اور تعصب کے ایسے خطرناک بیج بوئے گئے ، جن کا نتیجہ پاکستان کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں۔اس ماحول میں جب مخالفین احمدیوں کے ارتداد کی جھوٹی خبریں شائع کر رہے تھے۔سعید روحیں احمدیت کی آغوش میں پناہ لے رہی تھیں اور احراریوں میں سے بھی کچھ لوگ جب اُن کی اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں دیکھتے تو بیزار ہو کر ان کا ساتھ چھوڑتے اور احمدیت میں داخل ہو جاتے۔(۵۴) کئی ایسے محب وطن افسران بھی تھے جو اس سازش کی تہہ تک پہنچ کر حکومت کو خبر دار کر رہے تھے۔اُن کی رائے تھی کہ احمدیوں کے خلاف تحریک چلانے والے بیرونِ ملک عناصر سے ساز باز رکھتے ہیں۔جب احراریوں کے ایک جریدے شعلہ نے احمدیوں کے خلاف زہر چکانی کی تو ایک ڈی آئی جی نے حکام بالا کو یہ رپورٹ بھجوائی دسی آئی ڈی اس اخبار کے ایڈیٹر عبد الرشید اشک سے واقف ہے۔بہت سے دوسرے احراریوں کی طرح یہ بھی کانگرسی ہے۔۱۹۴۷ء میں یہ شخص پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ کے ماتحت نظر بند کر دیا گیا تھا کیونکہ یہ بھارت کے سیاسی ورکروں کے ساتھ ساز باز رکھتا تھا۔۔۔۔احراریوں کو یہ احساس ہے کہ مسلم لیگ اُن کی پشت پر ہے۔ورنہ ان کا ماضی استقدر تاریک ہے کہ انہیں کبھی سیاسی میدان میں داخل ہونے کی جرات نہیں ہو سکتی تھی۔یہ کانگرس کے پٹھو تھے اور ان میں سے بعض اب بھی کانگرس کے ہی وفادار ہیں۔مشہور احراری حبیب الرحمن تقسیم کے بعد اس صوبے کو چھوڑ کر بھارت چلا گیا۔بعض