سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 370 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 370

370 کانگرس کا پر چار کرتے ہیں اس لئے مناسب ہوگا کہ ان کے لئے روزگار کا کوئی مناسب انتظام کر دیا جائے۔(۱۵) مسلم لیگ کے قائدین اب بر ملا علماء پر غداری کا الزام لگا رہے تھے۔چنانچہ ظفر علی خان صاحب نے لاہور میں تقریر کرتے ہوئے کہا اگر مسلمانوں میں سے علماء کرام مولانا حسین احمد مدنی، مولانا کفایت اللہ ، مولانا احمد سعید اور مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کٹ کر ہندوؤں سے نہ ملتے تو آج کانگرس مسلمانوں سے مصالحت کر لیتی۔مگر یہ علماء خدا کو چھوڑ کر جواہر لال نہرو کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔(۱۶) قائد اعظم نے عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب جیسے لوگوں کی سطح پر اتر کر جواب تو نہیں دیا لیکن وہ ایک قانون دان تھے۔اور ان کی نظریں مستقبل میں پیدا ہونے والے خطرات کو دیکھ رہی تھیں۔چنانچہ ایک انٹرویو میں انہوں نے علماء کے متعلق کہا مذہبی تعبیر کے ساتھ ہی کام کی نوعیت اس کی حقیقی تقسیم عمل اور اس کی اصل حدود کو سمجھے بغیر ہمارے علماء کی ایک جماعت ان خدمات کو صرف چند مولویوں کا ایک اجارہ خیال کرتی ہے۔باوجود اہلیت اور مستعدی کے ، آپ کے یا میرے جذ بہ خدمت کو پورا کرنے کی کوئی صورت نہیں پاتی۔پھر اس منصب کی بجا آوری کے لئے جن اجتہادی صلاحیتوں کی ضرورت ہے ان کو میں الا ما شاء اللہ ان مولویوں میں نہیں پاتا۔وہ اس مشن کی تکمیل میں دوسروں سے کام لینے کا سلیقہ بھی نہیں جانتے۔(۱۷) اس سے ظاہر ہے کہ قائد اعظم کے نزدیک مولوی طبقہ اس بات کی اہلیت نہیں رکھتا تھا کہ وہ مذہب کو بنیاد بنا کر قانون سازی کا کام کریں یا سیاست میں دخل دیں۔اگر چہ یہ طبقہ یہی سمجھ رہا تھا که ان امور پر صرف اُنہی کی اجارہ داری ہونی چاہئیے۔مسلم لیگ کی کامیابی اور مولویوں کی زبوں حالی: بہر حال اس تناظر میں ہندوستان میں انتخابات ہوئے اور مسلم سیٹوں پر مسلم لیگ کو تقریباً مکمل کامیابی ملی اور دوسری طرف احرار جیسے گروہوں کو مسلمان عوام نے مکمل طور پر مستر دکر دیا۔احرار کا زیادہ تر اثر پنجاب میں تھا۔آزادی کے بعد ہونے والے فسادات کی وجہ سے مشرقی پنجاب میں بسنے