سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 335 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 335

335 کے مطابق کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔(۲۴) اب قبائلی لشکروں اور عوامی فوجوں کا ٹکراؤ مہا راجہ کی ڈوگرہ فوج سے نہیں بلکہ اپنے سے کہیں زیادہ مسلح اور تربیت یافتہ ہندوستانی فوج سے تھا۔قائد اعظم کو ہندوستانی فوج کے کشمیر میں داخل ہونے کی اطلاع لاہور میں ملی۔آپ نے پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف جنرل گریسی کو حکم دیا کہ وادی جہلم کے راستے پاکستانی افواج کشمیر میں داخل کر لی جائیں۔اس عذر کی بنا پر اس حکم کی تعمیل نہ ہوسکی کہ پاکستان کی فوج ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ یہ ہم شروع کی جا سکے۔یکم نومبر ۱۹۴۷ء کوریاست کشمیر کے صوبے گلگت میں بغاوت ہو گئی۔اس علاقہ کی اکثریت مسلمان تھی اور مسلمانوں پر مشتمل گلگت سکاؤٹ نے وہاں پر ڈوگرہ فوج کا صفایا کر دیا۔اس بغاوت کا دائرہ تیزی سے پھیلنے لگا اور جلد بلتستان ، ہنزہ اور نگر جیسے شمالی علاقوں نے مشترکہ طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔سردار ابراہیم کی عبوری حکومت نے پاکستان سے فوجی مدد کی درخواست کی اور ساتھ ہی اقوام متحدہ میں درخواست دی کہ ڈوگرہ فوج کے ظلموں سے ایک لاکھ شہری مارے جاچکے ہیں، اس لئے اقوام متحدہ مظلوم کشمیریوں کی مدد کو آئے۔(۲۶،۲۵) ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے اس موقف کا اعادہ کیا کہ امن قائم ہوتے ہی کشمیر میں ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ وہاں کے عوام کس ملک کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔اور اس کے ساتھ پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ قبائلی حملہ آوروں کی مدد کر رہا ہے۔(۲۷) جونا گڑھ پر ہندوستان کا قبضہ: اسی وقت کشمیر سے بہت دور جنوب میں جونا گڑھ کی ریاست میں بھی حالات تیزی سے تبدیل ہور ہے تھے۔جب ریاست کے ارد گرد کاٹھیا وار کے لوگوں کی آزاد فوج کے علاوہ ہندوستان کی فوج کو جمع ہوتا دیکھا تو جونا گڑھ کے مسلمان نواب اکتوبر کے آخر میں ریاست چھوڑ کر کراچی آگئے۔اس آزاد فوج کو ہندوستان کی حکومت کی حمایت حاصل تھی اور یہ ریاست کی سرحدوں پر ہندوستان کے علاقے میں مسلح اور منظم ہو رہی تھی۔پہلے مناودر پر قبضہ کیا گیا اور پھرے نومبر کو یہ فوج جونا گڑھ میں داخل ہو گئی۔اور پھر ہندوستان نے اس ریاست کا نظم و نسق سنبھال لیا۔پاکستان کی حکومت اس