سلسلہ احمدیہ — Page 248
248 دعا کو دہراتا ہوں۔اور سب دوست بلند آواز سے میرے پیچھے اس دعا کو دہراتے جائیں۔چنانچہ سب احباب نے حضور کی اتباع میں یہ دعا د ہرائی۔حضور کے لئے ایک دو منزلہ کچا مکان تیار کیا گیا تھا اور اس کے قریب ہی ایک کھلے چھپر کی صورت میں نماز پڑھنے کے لئے جگہ تیار کی گئی تھی۔اب ربوہ کی آبادی ایک ہزار نفوس تک پہنچ چکی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ کی با برکت آمد کے ساتھ ہی اب ربوہ با قاعدہ طور پر جماعت کا مرکز بن گیا تھا۔آہستہ آہستہ ربوہ کا منظر بدلنا شروع ہوا۔سب سے پہلے بننے والی پکی عمارت مسجد مبارک تھی۔پھر ایک ایک کر کے کچی عمارتوں کی جگہ پکی عمارتیں نظر آنے لگیں۔محلے آباد ہونے لگے۔ربوہ پھیلنے لگا۔۱۹۵۴ء میں ربوہ میں بجلی کی سہولت بھی مہیا ہو گئی۔دفاتر کی وسیع عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ایک کے بعد دوسری مسجد بنے لگی۔لق و دق زمین کی جگہ کہیں کہیں سبزہ نظر آنے لگا۔پھر اس زمین پر جسے سائنسی طور پر کچھ بھی اگانے کے قابل نہیں سمجھا گیا تھا، طرح طرح کے درخت اگنے لگے۔اب ربوہ کا منظر بدل رہا تھا۔حضرت مصلح موعود کی پیدائش سے قبل حضرت مسیح موعود کو الہاماً بتایا گیا تھا کہ پیدا ہونے والا موعود بیٹا اپنے کاموں میں اولوالعزم ہوگا۔یہ وصف پورے طور پر ظاہر نہیں ہوسکتا تھا جب تک ایسے حالات پیدا نہ ہوں جن میں ہر طرف مایوسی کے بادل چھا رہے ہوں اور تمام دنیاوی اسباب منقطع ہو چکے ہوں۔تقسیم ملک کے وقت پیدا ہونے والے حالات اور پھر ہجرت کے واقعات اور اہلِ قادیان کا بخیر و عافیت وہاں سے نکل آنا اور پھر بغیر کسی تاخیر کے نظام جماعت کا ایک بار پھر جاری ہو جانا۔اور باوجود تمام مشکلات کے نئے مرکز کا آباد ہونا ، یہ سب واقعات گواہی دے رہے ہیں کہ خدا کے پاک مسیح کی پیشگوئی سچی نکلی۔وہ موعود بیٹا یقیناً اولوالعزم تھا۔مخالفین کا حسد : جماعت کے مخالفین کو خود تو توفیق نہ ہوئی کہ وہ آنے والے مہاجرین کے لئے کوئی بستی آباد کرتے۔البتہ جب ربوہ آباد ہونا شروع ہوا تو یہ امران کے حسد میں اضافے کا باعث ضرور بن گیا۔اور جماعت کے مخالف اخبارات نے ربوہ کے متعلق بہت کچھ لکھنا شروع کیا۔اخبار آزاد نے اپنی ۲۰ نومبر ۱۹۵۰ء کی اشاعت میں ربوہ کے نام سے ایک مضمون شائع کیا۔اس کے آغاز پر اپنے