سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 249 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 249

249 اعتراضات کا یہ خلاصہ جلی حروف میں شائع کیا لوگ حیران ہیں کہ انگریز گورنرکو قادیانیوں سے کیا انس تھا۔اور اسے کیا ضرورت تھی کہ حکومت کی پالیسی پریس کی رائے اور عوام کے فائدے کے خلاف انہیں برائے نام قیمت پر زمین دے کر جدا شہر آباد کروایا۔اور چند دنوں کے اندر ہی سڑک سٹیشن اور دیگر تمام ضرورت کے اہتمام کا انتظام کیا۔فرانس مودی کے اس عمل اور قادیانی جماعت کی گذشتہ تاریخ کی روشنی میں اگر ہم یہ کہیں کہ ربوہ پاکستان میں انگریز کا کھونٹا ہے تو بے جا نہ ہوگا (۲۷) اول تو انگریز گورنر کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا۔زمین کی فروخت کی کاروائی ڈپٹی کمشنر کی سطح سے شروع ہوتی تھی اور وہ مسلمان تھے۔پنجاب میں مسلم لیگ کی وزارت قائم تھی اور زمین اس حکومت کی طرف سے فروخت کی گئی تھی۔یہ الزام کہ یہ زمین حکومت کی پالیسی کے برخلاف فروخت کی گئی تھی مضحکہ خیز ہے کیونکہ حکومت ہی نے تو یہ زمین فروخت کی تھی۔اور اس کا اعلان اپنے گزٹ میں شائع کیا تھا۔یہ موشگافی بھی خوب ہے کہ ربوہ کو چند دن کے اندر سڑک مہیا کی گئی تھی کیونکہ ربوہ کو سڑک مہیا نہیں کی گئی تھی، بلکہ ربوہ کو ایک سڑک کے اوپر بنایا گیا تھا۔یہ سڑک تو ربوہ کے بننے سے کئی دہائیاں قبل ہی بن چکی تھی۔اور رہی ربوہ کی اندرونی سڑکیں تو وہ تو اس معرکۃ الآراء مضمون کی اشاعت کے بیس سال بعد بنی تھیں۔اس مضمون میں دعوی کیا گیا ہے کہ ربوہ کے لئے تمام ضروریات کا اہتمام چند روز میں کر دیا گیا تھا۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک تو ربوہ میں بجلی کی سہولت بھی موجود نہیں تھی۔اور رہا یہ الزام کہ ربوہ پاکستان میں انگریزوں کا کھونٹا ہے اور احمدی انگریزوں کے ایجنٹ ہیں تو ہم اس کا جائزہ ذرا ٹھہر کر لیں گے لیکن یہ یاد کراتے جائیں کہ چند برس قبل احراری یہی الزام مسلم لیگ کے لیڈروں کے متعلق لگا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ کے لیڈرانگریزوں کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔(۱) تاریخ احمدیت جلدا اص۲۸۱ تا ۲۸۶ (۲) الفضل جلسہ سالانہ نمبر ۱۹۶۴ء ص ۸ (۳) الفضل ۲۱ دسمبر ۱۹۴۱ ء ص ۳ (۴) الفضل جلسہ سالانہ نمبر ۱۹۶۴ء