سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 235 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 235

235 زمین تھوہر اور کلر سے بری طرح متاثر ہے اور زراعت کے قابل نہیں ہے۔اس پر صرف ایک بوٹی لانی اگتی ہے جو خود زمین کے ناقابل زراعت ہونے کا ثبوت ہوتی ہے۔(۵) بہر حال اس کے بعد جائزہ لینے کا کام شروع ہوا تو پہلے حضور کے ارشاد پر چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ نے اس جگہ کا جائزہ لیا۔حضور نے اس جگہ کا خود معائنہ فرمانے کا فیصلہ فرمایا۔۱۷ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو حضور نے کچھ اور بزرگان کے ہمراہ چک ڈھگیاں تشریف لے گئے اور دو گھنٹے تک اس رقبے کا جائزہ لیا اور قریبی گاؤں احمد نگر تشریف لے جا کر سیلاب کے دنوں میں پانی کی صورتِ حال اور دیگر امور کے متعلق مقامی زمینداروں سے معلومات حاصل فرمائیں۔اس کے بعد حضور نے کڑانہ کی پہاڑیوں کے دامن میں موجود خالی قطعہ زمین کا بھی معائنہ فرمایا۔شام کو آپ واپس لا ہور تشریف لے آئے۔اسی روز آپ نے یہ فیصلہ فرمالیا کہ حکومت سے چک ڈھگیاں کی زمین خریدنے کی درخواست کی جائے۔(۶) اگلے روز حضور نے حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر سے فرمایا کہ ”کل میں وہ جگہ دیکھ کر آیا ہوں جو پہاڑیوں کے درمیان ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے رویا میں دکھائی تھی۔‘ (۷) یہ وہ زمین تھی جو بالکل بنجر اور نا قابل زراعت تھی۔جس کے ساتھ کوئی نہر نہیں لگتی تھی۔اس زمین کو بعض سرمایہ داروں نے گورنمنٹ سے پٹے پر لے کر آباد کرنے کی کوشش کی تھی مگر بھاری نقصان اٹھا کر نا کام ہو چکے تھے۔لیکن یہ رقبہ ان خامیوں کی وجہ سے سستے داموں مل سکتا تھا۔ان حالات میں اچھی اور مہنگی زمین لینا جماعت کی استطاعت سے باہر تھا۔زمین کا حصول : حضور کے ارشاد پر زمین کے حصول کی کاروائی شروع کی گئی۔چنانچہ ناظر اعلیٰ حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو درخواست دی کہ جماعت احمدیہ قادیان نہیں چھوڑنا چاہتی تھی لیکن بلوائیوں کے مسلسل حملوں اور ان حملوں میں ہندوستانی پولیس اور فوج کی مدد کی وجہ سے قادیان کی اکثریت کو جبراً اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں اور اب انہیں بسانے کے لئے کسی جگہ کی ضرورت ہے۔اس غرض کے لئے چک ڈھگیاں کا قطعہ اراضی جماعت کو فروخت کر دیا جائے۔(۸) ابتدائی مراحل تو تیزی سے طے ہو گئے مگر بعد میں قدرے سست روی کے ساتھ حکومت