سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 234 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 234

234 جالندھر میں بھی تباہی آئی ہے۔مگر مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے۔اس پر حضور تفر ماتے ہیں کہ اگر مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑ رہا ہے تب تو کامیابی کی امید ہے۔حضور کو وہاں سے نکلنا پڑا ہے۔وہاں سے نکل کر سب سوچ رہے تھے کہ اب کہاں جائیں کہ حضور کو ایک ایسی جگہ لے جایا جاتا ہے جہاں پہاڑیاں ہیں اور ان پہاڑیوں پر ایک ہموار میدان ہے۔حضور کو یہ جگہ بہت پسند آتی ہے اور اسے نئے مرکز کے لئے منتخب کر لیا جاتا ہے۔مگر خواب میں ہی حضور گو احساس ہوتا ہے کہ یہ جگہ بھی محفوظ نہیں ہے۔یہ خواب ۱۹۴۱ء میں شائع بھی ہو گئی تھی (۳)۔اس خواب کا ایک حصہ پورا ہو چکا تھا۔ایسے خطرناک حالات میں قادیان سے نکلنا پڑا تھا کہ جالندھر سمیت مشرقی پنجاب اور ہندوستان کے دیگر علاقوں پر بھی بہت بڑی تباہی آئی تھی۔اور عملاً قادیان کے تمام احمدی محلے خالی کرالئے گئے تھے اور احمدی صرف حلقہ مسجد مبارک میں محصور ہو کر اپنا دفاع کر رہے تھے۔اب اس خواب کا دوسرا حصہ یعنی نئے مرکز کی تلاش والا حصہ پورا ہونا باقی تھا۔ابتداء میں شیخو پورہ اور ننکانہ صاحب کا علاقہ زیر غور تھا۔چک ڈھگیاں کی زمین کی تجویز: نئے مرکز کے لئے زمین کی تلاش کی جا رہی تھی۔ایک مخلص احمدی مکرم چوہدری عزیز احمد باجوہ صاحب، جو اس وقت سرگودھا میں سب جج کے عہدے پر کام کر رہے تھے، نے حضور کی خدمت میں ضلع جھنگ میں ایک زمین کی نشاندہی کی۔یہ زمین چنیوٹ کے قریب دریا کے پارتھی اور بنجر ہونے کے باعث خالی پڑی تھی۔(۴)۔اس وقت گورنمنٹ کے کاغذوں میں یہ قطعہ زمین چک ڈھکیاں کے نام سے درج تھا۔اس جگہ کے علاوہ سرگودھا کو جانے والی سڑک پر ہی کڑانہ کی پہاڑیوں کا علاقہ بھی نئے مرکز کے لئے زیر غور آیا۔قادیان کے محصور احمدیوں کا انخلاء اب بڑی حد تک مکمل ہو چکا تھا۔ان دنوں حضور گودن رات ایک ہی فکر اور بے قراری تھی کہ کسی جگہ زمین لیکر دوسرا مرکز جلد از جلد قائم کیا جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی روزانہ صبح کے وقت مرکزی عہدیداران کی میٹنگ طلب فرماتے تھے۔اس میں چک ڈھگیاں کی تجویز کا ذکر آیا۔اس مجلس میں راجہ علی محمد صاحب ، ناظر بیت المال بھی موجود تھے۔انہوں نے عرض کی کہ یہ رقبہ میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہوا ہے۔یہ قطعہ