سلسلہ احمدیہ — Page 233
233 نیا مرکز آباد کرنے کا فیصلہ: رض ربوہ آباد کیا جاتا ہے حضور نے قادیان سے لاہور ہجرت فرمانے سے قبل ہی ہدایت فرما دی تھی کہ اگر قادیان میں کوئی حادثہ ہو جائے تو پاکستان میں ایک نہایت سستا قطعہ زمین لے کر اس پر جماعت کا نیا مرکز آباد کیا جائے۔بعد میں حالات نے ایسا رخ اختیار کر لیا کہ اس صورتِ حال میں قادیان میں جماعت کا مرکز رکھناممکن نہیں نظر آ رہا تھا۔اس لئے پاکستان میں مطلوبہ زمین کی تلاش شروع کی گئی۔اس سلسلے میں بہت سی جگہیں زیر غور آئیں۔یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ لاہور ، شیخو پورہ ،سیالکوٹ یا پسرور کے شہروں میں زمین لے کر وہاں پر مرکز آباد کیا جائے (۱)۔اس وقت پاکستان کی حکومت ان مہاجرین کو جو اپنی جائیداد میں ہندوستان میں چھوڑ کر آئے تھے ان ضائع شدہ جائیدادوں کے عوض وہ جائیدادیں الاٹ کر رہی تھی جو پاکستان میں ہندوؤں اور سکھوں کی نقل مکانی کی وجہ سے خالی ہوئی تھیں۔حضور کی ہدایت تھی کہ قادیان ہمارا مقدس مقام ہے اور ہم اس پر اپنے حق سے کسی طرح دستبردار نہیں ہونا چاہتے ، اس لئے کوئی احمدی قادیان کی جائیداد کے بدلے کسی اور جائیداد کا مطالبہ نہیں کرے گا۔اس طرح قادیان سے اپنی وابستگی کی وجہ سے احمدی بہت بڑا مالی نقصان برداشت کر بڑا رہے تھے اور اپنا قانونی حق چھوڑ رہے تھے۔لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے بعض چوٹی کے آدمیوں نے حضور کی خدمت میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ حضور ان کے شہروں میں رہائش اختیار کریں۔اور جماعت کو شہروں میں بھی زمین مل سکتی تھی۔مگر حضور نے ارشاد فرمایا کہ جماعت کی تعلیم و تربیت اور تنظیم کے جو تقاضے ہیں وہ بڑے شہروں میں پورے نہیں ہو سکتے۔اس لئے کسی الگ جگہ کی تلاش شروع کی گئی۔(۲) ۱۹۴۱ء میں حضور کو رویا میں دکھایا گیا تھا کہ حضور کے مکان پر ایک غنیم نے حملہ کر دیا ہے اور دشمن غالب آ گیا ہے۔اور یہ تباہی صرف قادیان تک محدود نہیں بلکہ بہت بڑی تباہی ہے۔اور