سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 215 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 215

215 ہندوستان کی حکومت کو لکھا گیا کہ وہ ان مظالم کو بند کرائے ، بلجین کونگو سے بھی تاریں دی گئیں۔برما، ارجنٹائن اور ایران کے اخباروں میں بھی ان مظالم کا چرچا ہو ا ( ۳۵۔۳۹)۔انہی دنوں میں Relief and Rehabilitation کے وزیر Mr۔K۔C۔Neogy نے بھی قادیان کا دورہ کیا اور کالج میں موجود مسلمان پناہ گزینوں سے گفتگو کی۔( ۴۰ )۔قادیان کا معرکہ بر صغیر کے اخبارات کی توجہ کا مرکز بھی بن رہا تھا۔چنانچہ ہندوستان کے کثیر الاشاعت اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر ایف ڈبلیوبسٹن (F۔W۔Buston) نے ۲۳ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو Qadian a Test Case کے عنوان سے اداریہ لکھا۔اس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا تھا کہ اب ، دنیا کی نظروں میں قادیان ہندوستان کی حکومت کے لئے ایک زندہ امتحان بن چکا ہے اور اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ ہندوستان کی حکومت اقلیتوں سے کیسا سلوک کرنا چاہتی ہے۔پھر قادیان میں ہونے والے مظالم کا ذکر کر کے لکھا کہ جب یہ لوگ اپنے دفاع کے لئے کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو اسے جارحیت قرار دے دیا جاتا ہے۔پھر پنڈت نہرو کے بیان پر حیرت کا اظہار کیا کہ انہوں نے قادیان میں گرفتاریوں اور اہلِ قادیان کو ہراساں کرنے کی تردید کی ہے جب کہ آزاد مبصرین ان باتوں کی تصدیق کر چکے ہیں۔پھر وزیر اعظم ہندوستان سے اپیل کی کہ اب تردیدی بیان جاری کرنے کی بجائے اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ مثبت اقدامات اٹھائیں۔تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ ہندوستان کے ترجمان کے بیانات محض الفاظ نہیں ہوتے۔اگر چہ اُس وقت پورا بر صغیر ان حالات سے گذر رہا تھا مگر احمد یوں نے جس بہادری سے اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کی ، برطانیہ کے اخبارات بھی اس کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔ڈیلی گرافک (Daily Graphic) کے نمائیندے Jossleyn Hennessy نے فساد زدہ پنجاب کا دورہ کیا اور اپنے اخبار کو قادیان کے متعلق رپورٹ بھجوائی جو اس سرخی کے ساتھ شائع ہوئی Moslems Trapped in Mosque Choose Death مسجد میں محصور مسلمانوں نے اپنے لئے موت کا انتخاب کرلیا۔اس رپورٹ میں اس صحافی نے لکھا ۳۵۰۰ کے قریب گمشدہ احمدی مسلمان قادیان کے مقدس شہر میں محصور ہیں۔قادیان امرتسر کے شمال مشرق میں ۳۵ میل کے فاصلے پر ہے۔احمدیوں کا فرقہ