سلسلہ احمدیہ — Page 178
178 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا۔۲۳ اگست کو ۲۴ صحابہ جمع ہوئے اور باہمی مشورے کے بعد حضور سے عرض کی کہ ان حالات میں یہی مناسب ہے کہ حضرت اماں جان اور خاندان حضرت مسیح موعود کی دوسری خواتین کو کسی محفوظ مقام پر پہنچا دیا جائے۔اور اس معاملے میں حضور ہدایت جاری فرمائیں ، مزید مشورہ نہ لیا جائے۔اس پیغام کے اگلے ہی روز قادیان کے قریب شمال مغرب میں ایک احمدی گاؤں فیض اللہ چک پر ہزاروں سکھوں نے حملہ کر دیا۔گاؤں کے لوگوں نے بہادری سے مقابلہ شروع کیا اور دو مرتبہ ان وحشیوں کو پسپا کر دیا۔مگر جب بھی حملہ آور کمزور پڑتے تو فوج اور پولیس ان کی مدد کو آ جاتی۔آخر سارا قصبہ تباہ کر دیا گیا۔بہت سے احمدی شہید ہو گئے۔اب اس علاقے میں قادیان مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ رہ گیا تھا۔ہزاروں کی تعدد میں مسلمان یہاں پر پناہ لے رہے تھے۔فوج، پولیس اور حکومتی مشینری بلوائیوں کا ساتھ دے رہے تھے۔اس سانحے کے بعد حضور نے مکرم شیخ بشیر احمد صاحب کو تحریر فرمایا کہ کنوائیز کا انتظام کیا جائے تاکہ عورتوں اور بچوں کو قادیان سے حفاظت کے ساتھ باہر نکالا جائے۔۲۵ اگست کو قادیان سے پہلا قافلہ روانہ ہوا۔اس میں حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور خاندان حضرت مسیح موعود کی خواتین سفر کر رہی تھیں۔حضرت مصلح موعودؓ کی اہلیہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ اور حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب قادیان میں ہی شہری رہیں۔صبح کے وقت چند بسوں پر مشتمل یہ قافلہ قادیان سے روانہ ہوا۔حضرت نواب عبداللہ خان صاحب قافلے کے امیر تھے۔قافلے کے آگے حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی جیپ جارہی تھی۔اور راستے کا جائزہ لینے کے لئے اور حفاظت کی غرض سے جماعت کا جہاز قافلے کے اوپر پرواز کر رہا تھا۔قافلہ تھوڑی دیر کے لئے بٹالہ رکا اور پھر لاہور کے لئے روانہ ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت اماں جان اور تمام قافلہ بخیر و عافیت لاہور پہنچ گیا۔گو اس وقت یہی خیال تھا کہ کچھ ہی عرصہ بعد قادیان واپسی ہو جائے گی لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر کچھ اور ہی ظاہر کرنے والی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام داغ ہجرت کے پورا ہونے کا وقت آچکا تھا۔مشرقی پنجاب میں صرف قادیان ہی ایسا مقام تھا جہاں پر ڈٹ کر ان دہشتگردوں کا مقابلہ کیا جا