سلسلہ احمدیہ — Page 177
177 فرمائی کہ محاسب صدر انجمن احمدیہ کی ایک شاخ لاہور میں کھولی جائے تاکہ مغربی پنجاب، سندھ اور سرحد کی جماعتیں لاہور کی شاخ میں اپنا چندہ جمع کراسکیں۔طے کیا گیا کہ مرزا عبدالغنی صاحب ایک دو کارکنوں کے ساتھ لاہور چلے جائیں اور ۳ ٹمپل روڈ لاہور پر دفتر قائم کریں۔اس طرح یہ صدر انجمن احمدیہ کا پہلا دفتر تھا جو پاکستان میں قائم کیا گیا۔(۵۷) ۲۲ اگست کو حضور نے عالمگیر جماعت احمدیہ کے نام پہلا پیغام بھجوایا۔یہ پیغام بذریعہ جہاز مکرم شیخ بشیر صاحب کو بھجوایا گیا اور پھر شائع کرا کے پاکستان اور دوسرے ممالک کی جماعتوں کو ارسال کیا گیا۔اس میں حضور نے تحریر فرمایا فسادات بڑھ رہے ہیں۔قادیان کے گرد و شمن گھیرا ڈال رہا ہے۔آج سنا گیا ہے۔ایک احمدی گاؤں پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے۔اس گاؤں کی آبادی چھ سو سے اوپر تھی۔ریل تار ڈاک بند ہے۔ہم وقت پر نہ آپ کو اطلاع دے سکتے ہیں اور نہ جو لوگ قادیان سے باہر ہوں اپنے مرکز کے لئے کوئی قربانی کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔آخر میں میں جماعت کو محبت بھرا سلام بھجواتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔اگر ابھی میرے ساتھ مل کر کام کرنے کا وقت ہوتو آپ کو وفاداری سے اور مجھے دیانتداری سے کام کرنے کی توفیق ملے اور اگر ہمارے تعاون کا وقت ختم ہو چکا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو اور آپ کے قدم کو ڈگمگانے سے محفوظ رکھے۔سلسلہ کا جھنڈا نیچے نہ ہو۔اسلام کی آواز پست نہ ہو۔خدا تعالیٰ کا نام ماند نہ پڑے۔قرآن سیکھو اور حدیث سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ اور خود عمل کرو اور دوسروں سے عمل کراؤ۔زندگیاں وقف کرنے والے ہمیشہ تم میں سے ہوتے رہیں۔۔۔۔(۵۸) حکومت مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو تو نہ روک سکی لیکن ۲۲ اگست کو قادیان میں ایک مبلغ سلسلہ چوہدری شریف احمد صاحب کو سیفٹی آرڈینینس کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔تمام دنیا کے احمدی اپنے پیارے امام اور قادیان کی حفاظت کے لئے پریشان تھے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کر رہے تھے۔اس وقت عملاً قادیان باقی دنیا سے کٹ چکا تھا۔ایک کے بعد دوسرا مسلمان گاؤں خالی ہو رہا تھا۔قادیان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا تھا۔ان حالات میں حضور نے