سلسلہ احمدیہ — Page 72
۷۲ کے میدان میں آخر خدا کی لعنت کا نشانہ بننے والا تھا۔ملکہ وکٹوریہ کی ساٹھ سالہ جو بلی اور حضرت ۱۸۹۷ء کے وسط میں ملکہ وکٹوریہ کی ساٹھ مسیح موعود کی طرف سے تبلیغی دعوت :- سالہ جو بلی تھی۔چونکہ حضرت مسیح موعود نہ صرف اصولاً حکومت وقت کے ساتھ تعاون کے قائل اور مؤید تھے بلکہ برٹش حکومت کے ویسے بھی مداح تھے اور اس کی امن اور انصاف اور مذہبی آزادی کی پالیسی کے ثناخواں تھے اور جماعت کو ہمیشہ پر امن اور وفادار شہری بنے رہنے کی تاکید فرماتے رہتے تھے اس لئے جب ملکہ وکٹوریہ کی ساٹھ سالہ جوبلی کا موقعہ آیا تو چونکہ اس موقعہ پر ملک کے سارے حصوں میں خوشی کے جلسے ہو رہے تھے آپ نے بھی قادیان میں ایک جلسہ منعقد فرمایا جس میں حکومت کے اچھے اوصاف کی تعریف فرمائی اور پبلک کو پر امن اور وفادار رہنے کی تلقین کی اور ملک کے امن وامان کے لئے دعا فرمائی اور جلسہ کے علاوہ اس موقعہ پر غربا میں کھانا بھی تقسیم کیا گیا اور رات کے وقت قصبہ میں چراغاں ہوا۔اس طرح آپ نے ایک پر امن اور وفادار شہری کے حقوق تو ادا کر دیئے لیکن ابھی ایک مصلح کے حقوق کی ادائیگی باقی تھی جو آپ نے اس طرح پوری فرمائی کہ ایک کتاب " تحفہ قیصریہ نامی لکھ کر اس میں ملکہ وکٹوریہ کو اسلام کی دعوت دی اور نہایت دلکش پیرایہ اور محبت کے انداز میں بوڑھی ملکہ کو حق اور صداقت کی طرف بلایا اور پھر اس کتاب کو خوبصورت شکل میں جلد کروا کے اپنی ایک چٹھی کے ساتھ ملکہ کی خدمت میں ارسال کیا ہے اور اس طرح آپ کے ہاتھ سے وہ سنت بھی پوری ہو گئی جو مقدس بانی اسلام نے قیصر و کسریٰ کو تبلیغ مراسلات کے بھجوانے میں قائم کی تھی۔ملکہ معظمہ نے اس کتاب کا شکر یہ ادا کیا اور اسے پڑھنے کا وعدہ فرمایا مگر بادشاہوں کا مذہب عموماً ان کی سیاست سے مغلوب ہوتا ہے اس لئے نہ بظاہر اس تبلیغ کا کوئی معین نتیجہ نکلنے کی امید تھی اور نہ کوئی نتیجہ نکلا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے ایک غیر مطبوعہ مراسلہ کے ذریعہ ۱۸۹۶ء میں امیر کابل کو لے اشتہار مورخه ۲۳ / جون ۱۸۹۷ء ملخص از مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۱۳ تا ۱۱۵ جدید ایڈیشن