سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 37 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 37

۳۷ اور مسلمہ عقیدہ کے خلاف دعوی کیا ہے اور یہ کہ علماء کا مقدس طبقہ آپ کو کافر اور بے دین قرار دے رہا ہے۔پس باوجود دیکھنے کے وہ آنکھیں بند کئے ہوئے تھے اور باوجود سننے کے ان کے کانوں پر مہر تھی اور مخالفت کے بادل لحظه بلحظہ گھنے اور سیاہ ہوتے جا رہے تھے۔ابتدائی مناظرات:۔اس مخالفت کا ایک فوری نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو اپنے دعوی کے ابتدائی دوتین سالوں میں متعدد مناظروں میں حصہ لینا پڑا۔چنانچہ ابتداء میں یعنی ۱۸۹۱ء میں آپ نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ ایک مناظرہ لدھیانہ میں کیا۔اس کے بعد اسی سال ایک مناظرہ مولوی نذیر حسین صاحب امام فرقہ اہل حدیث کے ساتھ جامع مسجد دہلی میں بڑے ہنگامہ کے ساتھ ہوتے ہوتے رہ گیا۔اور اسی سال ایک مناظرہ دہلی میں مولوی محمد بشیر صاحب بھو پالوی کے ساتھ ہوا۔سے اور ایک مناظرہ لاہور میں ۱۸۹۲ء میں مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری کے ساتھ ہوا۔مگر افسوس ہے کہ ان مناظروں نے اہل مناظرہ کو چنداں فائدہ نہ پہنچایا بلکہ جیسا کہ عموماً بحث مباحثہ میں ہوتا ہے یہ لوگ اور ان کے متبعین اپنی ضد اور مخالفت میں اور بھی ترقی کر گئے۔اسی طرح آپ کا ایک مناظرہ ۱۸۹۳ء میں مسٹر عبد اللہ آتھم مسیحی کے ساتھ امرتسر میں اسلام اور مسیحیت کے متعلق ہوا۔سے مگر اس کا انجام بھی ضد اور ہٹ دھرمی کے بڑھ جانے کے سوا کچھ نہیں نکلا۔ہاں بے شک ایک فائدہ ان مناظروں کا ضرور ہوا کہ حضرت مسیح موعود کے زبر دست مضامین کی وجہ سے ( کیونکہ آپ ہمیشہ تحریری مناظرہ کرتے تھے ) ایک مفید لٹریچر اسلام اور احمدیت کی تائید میں تیار ہو گیا جواب تک کے لٹریچر کی زینت ہے۔مسیحیوں کے ایمان کا دلچسپ امتحان:۔امرتسر کے مناظرہ میں ایک عجیب واقعہ بھی پیش آیا جس کا ذکر خالی از دلچسپی نہ ہوگا اور وہ یہ کہ چونکہ آپ کا دعوئی مثیل مسیح ہونے کا تھا اور انجیل میں آتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری بیماروں کو ہاتھ لگا کر اچھا کر دیتے تھے اس لئے عیسائی مناظر نے ایک دن ایسا کیا کہ تین چار لولے لنگڑے اور اندھے جمع کر کے ایک طرف چھپا دیے اور جب اس کی مضمون ے دیکھو الحق لدھیانہ سے دیکھو اشتہار مورخہ ۶ اکتوبر و ۷ار اکتوبر ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل اشتہار مورخه ۲۳ را کتوبر ۱۸۹۱ء صفحه ۲۲۹ تا ۲۳۱ جدید ایڈیشن) سے الحق دہلی کے اشتہار مورخہ ۳ فروری ۱۸۹۲ء۔۵۔دیکھو جنگ مقدس۔