سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 36 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 36

۳۶ کے گھس گئیں اور دعوی کے بعد ساری دنیا کے عیب آپ کی طرف منسوب کئے گئے مگر اس کے مقابل پر کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی مسلمان یا کسی ہندو یا کسی سکھ یاکسی عیسائی یا کسی دوسرے شخص نے آپ کے متعلق یہ الزام لگایا ہو کہ دعوی سے پہلے آپ کی زندگی میں یہ یہ عیب پایا جاتا تھا بلکہ قبل دعوی زندگی کے متعلق تمام مذاہب کے لوگ یک زبان ہو کر آپ کو صادق القول اور نیک اور خدا پرست قرار دیتے ہیں اور یہ شہادت دعوئی سے پہلی زندگی کے ہر زمانہ کے متعلق پائی جاتی ہے۔بچپن کے متعلق بھی اور جوانی کے متعلق بھی اور ادھیڑ عمر کے متعلق بھی دور نہ جاؤ آپ کے اشد ترین معا ندمولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ہی لے لو۔دعویٰ کے بعد اس شخص نے اپنی مخالفت کو انتہا تک پہنچا دیا اور آپ کی طرف ہر قسم کی برائی منسوب کی اور آپ کو نعوذ باللہ جھوٹا اور مفتری اور حرام خور اور بے دین اور مکار اور فریبی قرار دیا مگر دعوی سے پہلی زندگی کے متعلق اس کے منہ سے بھی مدح وستائش کے سوا اور کوئی کلمہ نہیں نکل سکا۔میں نے ان متعد د خطوط کو دیکھا ہے جو مسیحیت کے دعوئی کے بعد مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت مسیح موعود کو لکھے۔یہ خطوط وشنام دہی اور گالیوں اور طرح طرح کے الزاموں سے پر ہیں مگر ان خطوں میں بھی مولوی محمد حسین صاحب حضرت مسیح موعود کے خلاف دعوی سے پہلے کی زندگی کے متعلق قطعاً کوئی الزام نہیں لگا سکے۔باقی رہا دعوئی کے بعد عیب جوئی کرنا سو ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ عیب جوئی ہرگز کوئی حجت نہیں کیونکہ دشمنی پیدا ہو جانے کے بعد انسان کی آنکھ بدل جایا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب حضرت مسیح موعود نے اپنے مخالفوں کے سامنے یہ چیلنج پیش کیا کہ میں تمہارے اندر اپنے دھوئی سے قبل ایک لمبی زندگی گزار چکا ہوں کیا تم میں کوئی ہے جو آگے آکر میری قبل دعوئی زندگی کے متعلق کوئی دینی یا اخلاقی عیب پیش کرے یا کوئی جھوٹ یا خیانت یا بد عملی ثابت کرے۔لے تو اس پر کسی شخص کو آپ کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات نہیں ہوئی۔مگر مشکل تھی کہ جن لوگوں کے ساتھ آپ کو واسطہ پڑا تھا ان کے لئے اس قسم کی دلیلیں کافی نہیں تھیں وہ صرف یہ دیکھتے تھے کہ آپ نے اہل اسلام کے ایک معروف ا آئینہ کمالات اسلام و تذكرة الشهادتين ( ملخص از تذكرة الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفر ۶۴)