سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 35 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 35

۳۵ کی روح بے چین ہو جاتی تھی اور آپ کے نازک ترین جذبات کو انتہائی دھکا لگتا تھا کیونکہ جس مقدس ہستی کی محبت میں آپ نے یہ سارا بوجھ اٹھایا تھا اس کی دشمنی اور غداری کا آپ پر الزام لگایا جا تا تھا۔یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ کسی عاشق پر یہ الزام لگایا جاوے کہ وہ اپنے معشوق کا دشمن ہے چنانچہ آپ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں:۔کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے ابتدائی سفر :۔ان اعتراضوں کے ازالہ اور لوگوں کے سمجھانے کی غرض سے نیز اپنا صحیح صحیح پیغام پہنچانے کے لئے آپ نے اپنے دعوئی کے ابتدائی زمانہ میں متعد دسفر بھی اختیار کئے۔مثلاً شروع میں آپ ایک لمبا عرصہ لدھیانہ میں مقیم رہے۔پھر دہلی گئے اور وہاں کافی عرصہ قیام کیا۔پھر پٹیالہ تشریف لے گئے اور اپنے پیغام کو پہنچایا۔اسی طرح امرتسر، لاہور ، سیالکوٹ اور جالندھر وغیرہ جا کر کلمہ حق کی تبلیغ کی اور حقیقت الامر سے لوگوں کو آگاہ کیا۔مگر اس سے مخالفت کے طوفان میں کمی نہیں آئی۔ہاں ایک فائدہ ان سفروں سے ضرور حاصل ہوا کہ آپ کی آواز بہت جلد ملک کے مختلف حصوں میں پہنچ گئی اور لوگ آپ کے دعوی سے واقف ہو گئے لیکن اس کے ساتھ ہی لوگوں کے جوش و خروش کا پارہ بھی لحظه بلحظہ چڑھتا گیا۔اے حضرت مسیح موعود کا بلند اخلاقی معیار : مخالفت کے اس طوفان میں ایک بات اہل ذوق کو نہایت لطیف نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کے دعویٰ مسیحیت اور مہدویت کے بعد تو بے شک آپ کے خلاف ہر قسم کے الزامات لگائے گئے۔آپ کو دشمن خدا اور دشمن رسول کہا گیا۔دین کو بگاڑنے والا اور اسلام میں فتنہ پیدا کر نیوالا قرار دیا گیا۔خدا پر افتراء باندھنے والا اور بندوں کے حقوق غصب کر جانے والا سمجھا گیا اور اسی طرح اور بھی کئی طرح کے الزام لگائے گئے حتی کہ آپ کے خلاف تقریر کرنے والوں کی زبانیں گالیاں دے دے کر تھک گئیں اور لکھنے والوں کی قلمیں کاغذوں کو سیاہ کر کر لے دیکھو تبلیغ رسالت وسيرة المهدی و غیره :۔