سلسلہ احمدیہ — Page 407
۴۰۷ بیٹا! سامنے کی طرف دیکھو اور اپنے آپ کو اس خطرہ کے مقابلہ کے لئے تیار کرتے ہوئے آگے بڑھو۔جماعت احمدیہ کے دور بین امام نے ایک نظر میں ہی ان سارے زمینی اور آسمانی انقلابوں کو بھانپ لیا اور روح القدس نے آپ کے دل میں الہام کیا کہ جماعت کے لئے یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔آپ کی اولوالعزم ہمت ان خطروں کو دیکھ کر اور بھی بلند ہوئی اور آپ نے فرمایا خدا کا لایا ہوا ہر دور مبارک ہے۔ہم بھی اس جدید دور میں ایک جدید تحریک کی داغ بیل قائم کریں گے۔اور ایک طرف اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے اور دوسری طرف دشمن پر وار کرتے ہوئے آگے نکل جائیں گے۔یہی وہ تحریک جدید ہے جو اس وقت جماعت کے سامنے ہے۔جماعت احمدیہ کے نئے خطرات کا آغاز تحریک کشمیر کے آخری ایام میں ہو چکا تھا اور اندر ہی اندرز بر دست کھچڑی پک رہی تھی۔۱۹۳۴ء کے شروع میں احرار نے مرکز میں چند کارکن بھجوا کر اپنا دفتر قائم کیا اور فتنہ کی آگ جلا کر اسے ہوا دینے لگ گئے۔احرار مسلمانوں کی ایک نیم مذہبی نیم پولیٹیکل پارٹی کا نام ہے جس کی صحیح تعریف مشکل ہے البتہ اس لفظ کے لغوی معنوں کو دیکھا جائے جو آزاد اور بے قید کے ہیں تو اس سے اس پارٹی کے اصولوں کے متعلق ایک موٹا اندازہ ہوسکتا ہے اور وہ یہی ہے کہ اس پارٹی کا کوئی اصول نہیں بلکہ وہ بے قید ہو کر ہر کام میں دخل دے سکتی اور ہر کام سے الگ رہ سکتی ہے۔اس پارٹی کے بعض لیڈر کسی وقت کانگرس میں شامل تھے پھر اس کے بعد اس سے جدا ہو گئے اور اب پھر اسی کی طرف جھک رہے ہیں۔بہر حال اس پارٹی نے جس میں بعض جو شیلے مولوی بھی شامل ہیں احمدیت کے مقابلہ کا تہیہ کر کے قادیان میں اپنا دفتر قائم کیا اور اس دفتر کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ وہ نہ صرف قادیان کے اندر جماعت احمدیہ کو تنگ کرنے اور نقصان پہنچانے اور بدنام کرنے کا طریق اختیار کرے بلکہ قادیان کے اردگرد اور آس پاس کے علاقہ میں بھی جماعت کے متعلق مغویانہ پرا پیگنڈا کر کے احمدیت کے خلاف ایک جتھہ اور پارٹی بنالے۔اس کام کے لئے احرار نے چند ایسے لوگوں کو چنا جو اس قسم کی باتوں میں خاص طور پر مشاق تھے۔دوسری طرف چونکہ اتفاق سے انہی ایام