سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 406 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 406

۴۰۶ جلاتی ہیں تو وہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب ہمارا قادر خدا رحمت کی زور دار بارش کے لئے آسمان پر حرکت میں آتا ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود نے ہمیں پہلے سے تسلی دے رکھی ہے کہ :۔دیکھ کر لوگوں کا جوش وغیظ مت کچھ غم کرو شدت گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار دور جدید اور تحریک جدید:۔جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے اللہ تعالی نے حضرت خلیفہ اسیح ثانی کو تحریک کشمیر میں ایک معجزانہ اور عدیم المثال کامیابی عطا فرمائی اور کشمیر کے کم و بیش تمھیں لاکھ مسلمان آپ کے دم کی برکت سے غلامی کی زنجیروں سے رہائی پاگئے اور خدا کا وہ فرمان پورا ہوا جو اس نے آپ کے متعلق حضرت مسیح موعود کی زبان پر ۱۸۸۶ء میں جاری فرمایا تھا کہ :۔” وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا“ مگر یہ تحریک کئی مخفی طاقتوں کو بیدار کرنے کا باعث بن گئی۔چنانچہ اوّل تو اس کے نتیجہ میں احرار کا فتنہ پیدا ہوا۔دوسرے نو تعلیم یافتہ مسلمانوں کا وہ طبقہ بھی جو احرار سے تو الگ تھا مگر احمدیت کے روز افزوں اثر و رسوخ کو دیکھ کر خائف ہورہا تھا چونک پڑا اور اس اٹھتے ہوئے پودے کو مسل دینے کے لئے آمادہ ہو گیا۔تیسرے خود حکومت انگریزی کے بعض افسر بھی اپنی غلطی اور کو تہ بینی سے جماعت کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اپنے لئے خطرہ کا موجب سمجھ کر اسے دبانے اور مثانے کی فکر میں لگ گئے۔دوسری طرف ان خطرات کو دیکھ کر آسمانی طاقتیں بھی حرکت میں آئیں تا کہ آنے والے ایام کے لئے جماعت کو ہوشیار و تیار کر دیں اور خدائے علیم نے فیصلہ فرمایا کہ قدیم سنت اللہ کے مطابق جماعت کے رستہ میں کچھ ابتلا پیدا کئے جائیں تا کہ وہ ان ابتلاؤں میں سے صاف ہو کر اور دھل کر آگے جائے۔اس طرح تحریک کشمیر کے اختتام پر جماعت نے اچانک دیکھا کہ اس کے سامنے چار طاقتیں صف آرا ہیں۔تین مخالف طاقتیں اس کو مٹانے کے لئے اور چوتھی موافق طاقت اس کو بنانے کے لئے۔ان تین طاقتوں کا ہاتھ ایک خونخوار دشمن کی طرح اس کے سر پر اٹھ رہا تھا کہ بس بہت بڑھ چکے اب آگے نہیں اور چوتھی طاقت کا ہاتھ ایک مشفق ماں کے رنگ میں اس کے سامنے پھیلا ہوا تھا کہ