سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 401 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 401

۴۰۱ اور پھر ایبٹ آباد اور پھر اس سے پرے کشمیر کی سرحد پر اور پھر کہیں اور۔غرض ایک مسلسل حرکت تھی جس میں مختلف لوگوں سے ملنا۔کشمیر سے آنے والے لیڈروں کی رپورٹ سننا اور ہدایات دینا۔کشمیر کمیٹی کے جلسے کروانا۔پریس میں رپورٹیں بھجوانا۔ریاست اور گورنمنٹ کے افسروں سے ملاقات کرنا کرانا وغیرہ ہر قسم کا کام شامل تھا۔اس عرصہ میں آپ نے روپیہ بھی بے دریغ خرچ کیا۔صرف وہی نہیں جو کشمیر کمیٹی کے نام چندہ کے طور پر آتا تھا کیونکہ وہ بہت قلیل تھا۔بلکہ خود اپنے پاس سے اور اپنی جماعت سے لے کر آپ کی اس والہا نہ جدو جہد کا ریاست کے حکام پر اس قد ر رعب تھا کہ ایک دفعہ ریاست کے ایک وزیر نے حضرت خلیفہ اسیح کے ایک نمائندہ کے سامنے لجاجت کے ساتھ کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت سب کنجی آپ کے ہاتھ میں ہے۔مگر خدا کے لئے اب اس معاملہ کو زیادہ طول نہ دو اور اس وقت کے مناسب حال جو حق لینا چاہتے ہو لے لومگر ہمارا پیچھا چھوڑو اور دنیا میں ہمیں بدنام نہ کرو۔ریاست کے مسلمان لیڈروں کا بھی یہ حال تھا کہ جب بعض پنجاب کے احرار لیڈر احمدیت کا سوال اٹھا کر کشمیر میں پہنچے اور لوگوں کو حضرت خلیفتہ المسیح اور ان کے نمائندوں کی طرف سے بہکانا چاہا تو انہوں نے ان احراری لیڈروں کو جو انہی کے ہم مذہب و ہم عقیدہ تھے دھتکار کر جواب دے دیا اور کہا کہ جو لوگ ہماری اس قدر بے لوث خدمت کر رہے ہیں تم ہمیں ان کی طرف سے بد گمان کرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ان ایام میں گو نام کشمیر کمیٹی کا تھا مگر پنجاب کا ہر اخبار اور منبر ومحراب حضرت خلیفتہ المسیح صدر کمیٹی کے کام سے گونج رہا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایک نہایت قلیل عرصہ کی جنگ کے بعد۔ہاں اتنا قلیل عرصہ جو قوموں کی زندگی میں ایک سانس کی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔نہ صرف ریاست نے بلکہ ایک طرح سے حکومت انگریزی نے بھی ہتھیار ڈال دیئے اور کشمیر کا صدیوں کا غلام آنکھیں کھول کر آزادی کی ہوا کھانے لگا۔اہل کشمیر کو اسمبلی ملی۔حکومت میں حصہ ملا۔پریس کی آزادی ملی۔مسلمانوں کو ملازمتوں میں برابر کے حقوق ملے۔فصلوں پر قبضہ ملا اورتعلیم میں سہولتیں ملیں اور جو بات نہیں ملی اس کے ملنے کے لئے رستہ کھل گیا۔