سلسلہ احمدیہ — Page 396
۳۹۶ گئی ہیں ان میں کتاب ”ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل“ بہترین تصانیف میں سے ہے۔ڈاکٹر سر محمد اقبال نے لکھا:۔چند مقامات کا میں نے مطالعہ کیا ہے۔نہایت عمدہ اور جامع ہے۔“ کے اخبار انقلاب لا ہور نے لکھا:۔جناب مرزا صاحب نے اس تبصرہ کے ذریعہ سے مسلمانوں کی بہت بڑی خدمت سر انجام دی ہے۔یہ بڑی بڑی اسلامی جماعتوں کا کام تھا جو مرزا صاحب نے انجام دیا۔‘ سے تحریک کشمیر اور جماعت کی تاریخ اب ہم تاریخ کے اس حصہ میں داخل ہور ہے میں ایک انقلابی دور کا آغاز : ہیں جس میں جماعت احمد یہ دوسرے مسلمانوں کے قریب ترین پہنچ گئی۔اپنے عقائد اور اپنی خصوصیات کو چھوڑ کر نہیں۔بلکہ اپنی بے لوث خدمات اور اپنے کارناموں کی وجہ سے مسلمانوں کے دل میں جگہ پا کر لیکن یہی قرب دوری کا باعث بن گیا اور یہی ہر دلعزیزی نفرت پیدا کرنے کا موجب ہوگئی۔تحریک کشمیر جس کا ہم اب ذکر کرنے لگے ہیں اور جو ۱۹۳۱ ء اور ۱۹۳۲ء کے سالوں میں اپنے پورے عروج میں تھی کے لئے ایک انقلابی رنگ رکھتی ہے۔یعنی کئی سال کی مسلسل اور بے نظیر خدمات کی وجہ سے جماعت احمد یہ آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ مسلمانوں کے خیالات میں اوپر اٹھتی چلی جارہی تھی اور باوجود عقائد کے بھاری اختلاف کے مسلمانوں کا سواد اعظم قدم بقدم جماعت احمدیہ کے قریب تر ہو رہا تھا اور یوں نظر آتا تھا کہ اگر درمیانی خلیج میں تھوڑی سی بھی اور کمی آگئی تو یہ عظیم الشان روحانی مقناطیس مسلمانان ہند کو ایک فوری جنبش کے ساتھ کھینچ کر اپنے اندر جذب کر لے گا۔اس عجیب و غریب نظارہ کو جہاں خدا کے فرشتے آسمان پر غور کی نظر کے ساتھ دیکھ رہے تھے وہاں زمین کے مبصر لا تتمه کتاب سیاسی مسئلہ کا حل ايضاً انقلاب مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۳۰ء