سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 357 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 357

۳۵۷ وقت ضائع نہیں کرنا پڑتا۔دوسرے جو نا گوار اثرات اخلاقی لحاظ سے قانونی عدالتوں کی فضا میں پیدا ہو سکتے ہیں ان سے جماعت کے لوگ محفوظ ہو گئے۔تیسرے بعض اوقات مقدمات کے نتیجہ میں جو ایک صورت پارٹی بندی کی پیدا ہونے لگتی ہے اس کا خطرہ جا تا رہا۔جماعت کے دشمنوں نے اس صیغہ کے قیام پر بہت کچھ شور مچایا ہے کہ گویا جماعت احمدیہ نے ایک نئی حکومت قائم کر لی ہے اور لوگوں کے لئے سرکاری عدالتوں میں جانے کا رستہ بند کر دیا گیا ہے اور حکومت کو بھی طرح طرح کی رپورٹوں سے بدظن کرنے کی کوشش کی گئی مگر سمجھدار طبقہ محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک بہت مفید نظام ہے جس میں ایک طرف تو حکومت کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ جیسا کہ پنجایت ایکٹ وغیرہ کا منشاء ہے حکومت اس بات کو پسند کرتی ہے کہ لوگ آپس میں خود فیصلہ کر لیا کریں اور دوسری طرف جماعت کے اندرونی تنازعات کے تصفیہ کا ایک بہت سہل اور عمدہ اور ستارستہ نکل آیا ہے۔جماعت کے اس نظام میں دو خصوصیتیں ہیں اول یہ کہ صیغہ قضا کے تمام مقدمات شریعت اسلامی کے مطابق تصفیہ پاتے ہیں۔دوسرے یہ کہ اس میں اہل مقدمہ سے کوئی فیس چارج نہیں کی جاتی بلکہ ہر مقدمہ سلسلہ کے خرچ پر مفت کیا جاتا ہے کیونکہ یہی قدیم اسلامی طریق ہے۔امریکہ کا دار التبلیغ : ۱۹۱۹ء کے سال کو ایک یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس میں سلسلہ احمد یہ کی تبلیغی مہم پرانی دنیا کی حدود سے باہر نکل کرنئی دنیا میں جا پہنچی۔یعنی اس سال حضرت خلیفہ مسیح کے حکم سے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ایک نیا احمد یہ مشن جاری کیا گیا۔حضرت مسیح موعود کی بعثت چونکہ ساری دنیا کے لئے تھی اس لئے بہر حال جماعت نے جلد یا بدیر ساری دنیا میں تبلیغی نظام قائم کرنا تھا مگر ریاستہائے متحدہ کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں اس ملک کا ایک جوشیلا اور با اثر مسیحی بانی کے مقابل پر کھڑا ہو کر طاقت آزمائی کر چکا تھا ہماری مراد الگزانڈر ڈوئی سے ہے جس نے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں آپ کے خلاف آواز اٹھائی اور پھر حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے مطابق آپ کی زندگی میں ہی ذلیل ہو کر پیوند خاک ہو گیا۔پس یہ ضروری تھا کہ بعض