سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 355 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 355

۳۵۵ جماعت کے مرکزی نظم ونسق میں اصلاح:۔دنیا میں اکثر لیڈر اور پیشر وایسے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے دائرہ انتظام میں بعض خاص خاص شعبوں کی طرف ہی زیادہ توجہ ہوتی ہے اور دوسرے شعبے غفلت کی حالت میں پڑے رہتے ہیں مگر خدا نے حضرت خلیفہ مسیح ثانی کو ایسی آنکھ دی ہے جو چاروں طرف دیکھتی اور ہر پہلو پر نگاہ رکھتی ہے اور جماعت کی حفاظت اور ترقی کے لئے جن جن امور کی ضرورت ہے ان میں سے کوئی بھی آپ کی نظر سے اوجھل نہیں رہتا چنا نچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح اپنی خلافت کے ان ابتدائی چند سالوں میں آپ نے تصنیف کی طرف۔تربیت کی طرف سیاست کی طرف۔خدمت خلق کی طرف ایک ہوشیار اور چوکس نظر کے ساتھ توجہ رکھی اور ہر موقعہ سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔اسی طرح اس عرصہ میں آپ کی آنکھ جماعت کے مرکزی نظام کی اصلاح کی طرف بھی لگی ہوئی تھی۔اور آپ صدر انجمن احمدیہ کے نظام کے اس تفصیلی حصہ میں جو حضرت مسیح موعود کا فیصلہ کردہ نہیں تھا بلکہ خود انجمن کا قائم کردہ تھا بعض نقصوں کو دیکھ کر اس کی اصلاح کے سوال پر غور فرما رہے تھے۔اس نظام میں سب سے بڑی کمزوری آپ کو یہ نظر آتی تھی کہ اس کے اندر مرکزیت کا اصول بہت زیادہ غلبہ پائے ہوئے ہے اور مختلف صیغہ جات ایک ہی سیکرٹری کے ماتحت اس طرح جمع ہیں کہ ان صیغوں کے افسروں کو کوئی ذمہ دارانہ پوزیشن حاصل نہیں رہتی۔حتی کہ صدرانجمن احمدیہ کے مشوروں میں بھی ان افسروں کی آواز کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ صدرانجمن احمدیہ کے جملہ انتظامی فیصلہ جات خالصہ ایسے ممبروں کی رائے سے تصفیہ پاتے ہیں جن کے ہاتھ میں کسی انتظامی صیغہ کی باگ ڈور نہیں۔آپ نے اس نقص کو دیکھ کر اس کی اصلاح کی تجویز فرمائی مگر دوسری طرف آپ اس بات کو بھی محسوس کر رہے تھے کہ ممکن ہے کہ ایک قائم شدہ نظام کو یکلخت بدل دینے میں کوئی دوسری قسم کے نقصانات نہ پیدا ہونے لگیں پس آپ نے اس الجھن میں سے یہ راہ نکالی کہ صدرانجمن احمدیہ کے نظام کو قائم رکھتے ہوئے اس کے پہلو میں ایک دوسرا متوازی نظام جاری فرما دیا جس میں ہر شخص ایک مستقل صیغہ کا انچارج تھا اور پھر یہ سب انچارج باہم مل کر ایک انتظامی انجمن بناتے تھے۔ان افسران