سلسلہ احمدیہ — Page 354
۳۵۴ دوسری طرف حضرت خلیفہ اسیح ثانی نے حکومت کو بھی ہمدردانہ رنگ میں نصیحت فرمائی کہ ان کا رویہ ہندوستانیوں کے لئے عموماً اور مسلمانوں کے لئے خصوصاً اچھا نہیں رہا کیونکہ امرتسر کے جلسہ میں وحشیانہ طور پر گولی چلا کر اور پھر مارشل لا کے دنوں میں معزز ہندوستانیوں کو فوجی نظام کے ماتحت رینگ کر چلنے کی سزا دے کر صرف ایک ظلم ہی نہیں کیا گیا بلکہ گویا سارے ملک کی ہتک کی گئی ہے۔پھر مسلمانوں کے دلوں کو خصوصاً ترکی کے ساتھ سختی کا سلوک کر کے بری طرح مجروح کیا گیا ہے۔آپ نے اس زمانہ میں دو کتابیں بھی تصنیف کر کے شائع فرما ئیں جن میں سے ایک میں تو ترکی کے ساتھ سلوک پر تبصرہ کیا گیا تھا اور دوسری میں ترک موالات اور عدم تعاون وغیرہ کے اصول پر بحث تھی۔ان پر دو کتابوں میں انصاف کے ترازو کو اس دیانتداری اور عقل مندی کے ساتھ قائم کیا گیا تھا کہ ملک کے سمجھدار طبقہ پر ان کا بہت اچھا اثر ہوا مگر آپ کی ان تحریکات کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ ملک کا انتہائی سیاسی باز و جماعت احمدیہ کی طرف سے سخت بدیمن ہو کر اسے اپنی سیاسی ترقی میں ایک روک خیال کرنے لگ گیا حالانکہ حضرت خلیفتہ اسیح ثانی بار بار اس بات کی تشریح فرما چکے تھے کہ ہم ملک کی سیاسی آزادی اور اہل ملک کے حقوق کی حفاظت کے ہرگز خلاف نہیں بلکہ اس مطالبہ میں دوسروں کے ساتھ بالکل شریک اور متحد ہیں۔مگر اس غرض کے حصول کے لئے جو رستہ اختیار کیا جاتا ہے اسے ہم درست نہیں سمجھ سکتے کیونکہ وہ امن کو برباد کرنے والا اور نو جوانوں اور خام خیالوں میں قانون شکنی کے میلان کو ترقی دینے والا ہے۔اس کے بعد جب مسلمانوں نے ۱۹۲۱ء میں خلافت ایجی ٹیشن کے سلسلہ میں تحریک ہجرت کی بنیاد ڈالی تو اس وقت بھی حضرت خلیفہ اسیح نانی نے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ یہ طریق دین اور دنیا ہر دو کےلحاظ سے نادرست اور غیر دانشمندانہ اور سراسر نقصان دہ ہے اور مسلمانوں کو اس سے پر ہیز کرنا چاہئے مگر وقتی جوش کے عالم میں مسلمان لیڈروں نے اس نصیحت کی بھی قدر نہ کی اور ہزاروں مسلمانوں کو تباہ و بربادکر کے چھوڑا۔