سلسلہ احمدیہ — Page 352
۳۵۲ تیمارداری اور علاج معالجہ میں نمایاں حصہ لیا۔احمدی ڈاکٹروں اور احمدی طبیبوں نے اپنی آنریری خدمات پیش کر کے نہ صرف قادیان میں مخلوق خدا کی خدمت کا حق ادا کیا بلکہ شہر بہ شہر اور گاؤں بہ گاؤں پھر کر طبی امداد بہم پہنچائی اور عام والنٹیروں نے نرسنگ وغیرہ کی خدمت سرانجام دی اور غرباء کی امداد کے لئے جماعت کی طرف سے روپیہ اور خور و نوش کا سامان بھی فراخ دلی کے ساتھ تقسیم کیا گیا۔مجھے خوب یاد ہے کیونکہ میں بھی اس آنریری کور میں شامل تھا کہ ان ایام میں احمدیت والنٹیر دن رات اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر مریضوں کی خدمت میں مصروف تھے اور بعض صورتوں میں جبکہ کام کرنے والے خود بیمار ہو گئے اور ابھی نئے کام کرنے والے میسر نہیں آئے تھے بیمار والنٹیر وں نے ہی خدمت کے سلسلہ کو جاری رکھا اور جب تک یہ والنٹیر بالکل نڈھال ہو کر صاحب فراش نہیں ہو گئے انہوں نے اپنے آرام اور اپنے علاج کے خیال پر دوسروں کے آرام اور دوسروں کے علاج کو ہر حال میں مقدم کیا۔یہ ایک ایسا شاندار کام تھا کہ دوست و دشمن سب نے یک زبان ہو کر جماعت احمدیہ کی بے لوث خدمات کا اعتراف کیا اور تقریر وتحریر ہر دو میں اس بات کو تسلیم کیا کہ اس موقعہ پر جماعت احمد یہ نے بہت اچھا نمونہ قائم کیا ہے۔۱۹۱۹ء و۱۹۲۰ء کے سال اس لحاظ سے ہندوستان کی تاریخ ہندوستان میں زبردست سیاسی میں یادگار رہیں گے کہ اس زمانہ میں ہندوستان میں ایک ہیجان اور جماعت احمدیہ کا رویہ : - پیچ سیاسی ہیجان کا آغاز ہوا جس کی نظیر اس سے پہلے کسی زمانہ میں نظر نہیں آتی۔جنگ کے اختتام نے دنیا میں ایک عام بیداری پیدا کر دی تھی اور چونکہ بیداری کے ابتدائی مراحل میں بعض جو خیلی طبیعتیں حد اعتدال سے آگے گزر جاتی ہیں اس لئے اس کے انسداد کے واسطے گورنمنٹ ہند نے بعض احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیں اور ۱۹۱۹ء کی ابتداء میں ایک قانون رولٹ ایکٹ بھی جاری کرنے کی تجویز کی جس کے ذریعہ پریس پر خاص پابندیاں عائد کی گئیں۔حکومت کے اس اقدام پر ملک کے بیدار شدہ حصہ میں سخت ہیجان پیدا ہوا اور اس نئے قانون کے