سلسلہ احمدیہ — Page 351
۳۵۱ حاجی بھی اسی رستے آتے جاتے ہیں اس لئے اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور پھر ایک بڑا شہر ہونے کے علاوہ اس میں مسلمانوں کی تین مشہور تجارتی قو میں یعنی خو جے بوہرے اور میمن آباد ہیں جو عموماً دوسرے مسلمانوں کی نسبت مذہب کی طرف زیادہ میلان رکھتے ہیں۔ان وجوہات کی بنا پر آپ نے اگست ۱۹۱۷ء میں بمبئی میں ایک تبلیغی وفد روانہ کیا جس کے ممبر خاکسار کے چھوٹے ماموں مکرمی میر محمد اسحاق صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل اور خاکسار مؤلف رسالہ ھذا تھے۔ہم نے وہاں دو ڈھائی ماہ قیام کیا اور مسلمانوں کی مختلف اقوام میں اشتہاروں اور لیکچروں اور درس وغیرہ سے تبلیغ کی گئی جس پر بعض فتنہ پردازوں نے شرارتیں بھی اٹھا ئیں مگر خدا کے فضل سے فی الجملہ اچھا اثر ہوا۔اسی دوران میں مکرمی میر محمد اسحاق صاحب فاضل کا مسیحیوں کے مشہور مناظر پادری جوالا سنگھ سے مسیحیت اور اسلام کے متعلق ایک مناظرہ بھی ہوا جس میں خدا کے فضل سے میر صاحب موصوف کو نہایت نمایاں کامیابی نصیب ہوئی اور ویسے بھی بمبئی کی عمومی تبلیغ میں میر صاحب موصوف ہی کی مساعی کا زیادہ حصہ اور زیادہ دخل تھا۔ہمارے واپس آ جانے کے بعد بھی بمبئی میں ایک عرصہ تک تبلیغی کام جاری رہا اور گودرمیان میں بعض ناغے بھی ہو جاتے رہے مگر اب بھی بمبئی میں عموماً ایک مبلغ رہتا ہے اور گیٹ آف انڈیا کی ناکہ بندی کا سلسلہ جاری ہے۔انفلوانزا کی عالمگیر و با میں جماعت کی بے لوث خدمت :۔۱۹۱۸ء میں جنگ عظیم کا ایک نتیجہ انفلوانزا کی وبا کی صورت میں ظاہر ہوا اس نے گویا ساری دنیا میں پھیل کر اس تباہی سے بھی زیادہ تباہی مچادی جو جنگ کے میدان میں ہوئی تھی۔ہندوستان میں بھی اس مرض کا سخت حملہ ہوا اور گو شروع میں اموات کی شرح کم تھی مگر کچھ عرصہ کے بعد اس کثرت کے ساتھ موتیں ہونے لگیں کہ قیامت کا نمونہ سامنے آ گیا۔چونکہ جماعت احمدیہ کے فرائض میں ایک بات یہ بھی داخل ہے کہ وہ مخلوق کی خدمت کرے اس لئے ان ایام میں حضرت خلیفتہ اسیح ثانی کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمدیہ نے نہایت شاندار خدمت سرانجام دی اور مذہب وملت کی تمیز کے بغیر ہر قوم اور ہر طبقہ کے لوگوں کی