سلسلہ احمدیہ — Page 350
۳۵۰ ماریشس میں پہنچ کر صوفی صاحب کو خدا کے فضل سے بہت کامیابی ہوئی اور بہت سے لوگ جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے اور گو صوفی صاحب موصوف اس جزیرہ میں بارہ سال کی شاندار خدمت کے بعد واپس تشریف لے آئے مگر اب تک یہ مشن با قاعدہ طور پر قائم ہے اور اچھا کام کر رہا ہے ماریشس کو ایک خصوصیت یہ بھی حاصل ہے کہ وہاں ہمارا ایک مخلص مبلغ غریب الوطنی کی حالت میں وفات پا کر جام شہادت سے مشرف ہوا۔یہ صاحب حافظ عبید اللہ صاحب تھے جو صوفی صاحب کی امداد کے لئے ۱۹۱۷ء میں ماریشس گئے تھے مگر ۱۹۲۳ء میں بیمار ہوکر وہیں وفات پاگئے۔احمد یہ ہوٹل لاہور کا قیام :۔تبلیغ کے ساتھ ساتھ حضرت امیر المومنین ملایان اسے مانی کی دور بین آنکھ جماعت کی تعلیمی اور تربیتی ضروریات کو بھی دیکھ کر اس کے انتظام کے لئے فکرمند تھی۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ قادیان میں حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی ایک ہائی سکول قائم ہو چکا تھا مگر چونکہ اس کے ساتھ کوئی کالج نہیں تھا اور اب تک بھی نہیں ہے اس لئے یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے جماعت کے بچوں کو لازم لا ہور وغیرہ کے کالجوں میں داخل ہونا پڑتا تھا۔یہ صورت حال تربیتی نکتہ نگاہ سے خطر ناک تھی کیونکہ کچی عمر کے بچوں کا جماعتی ماحول سے نکل کر دنیا کے زہر آلود مادی ماحول میں جا گھسنا خام طبیعتوں پر برا اثر پیدا کر سکتا تھا۔حضرت خلیفتہ اسیح ثانی نے اس خطرہ کو محسوس کیا اور یہ دیکھتے ہوئے کہ ابھی تک جماعت میں کالج جاری کرنے کی طاقت نہیں ہے یہ تجویز فرمائی کہ لاہور میں احمدی بچوں کے لئے ایک ہوٹل قائم کر دیا جاوے جہاں جماعت کے نوجوان اکٹھے رہیں اور جماعت کے تربیتی انتظام کے ماتحت زندگی گزاریں۔یہ ہوٹل ۱۹۱۶ء میں قائم کیا گیا۔اور اب تک جاری ہے اور خدا کے فضل سے اس نے ایک حد تک جماعت کے لئے کالج کی کمی کو پورا کر رکھا ہے۔ہندوستان کے دروازہ کی ناکہ بندی : ۱۹۱۷ء میں حضرت طلیقہ اسی ثانی کو اس طرف توجہ ہوئی کہ بمبئی میں تبلیغی کام شروع کیا جاوے۔بمبئی کو یہ خصوصیت تھی اور اب بھی ہے کہ وہ گویا ہندوستان کا دروازہ ہے اور نہ صرف مغربی ممالک کو آنے جانے والے مسافر بلکہ بیت اللہ کے اکثر