سلسلہ احمدیہ — Page 340
۳۴۰ مگر اس کا کیا پھل پایا؟ آہ یہ ایک نہایت تلخ خیال ہے جس کے تصور سے بھی دل میں درد اٹھتا ہے۔پس میں اس کی تشریح میں جانے کے بغیر صرف اس دعا پر اس حصہ مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمارے ان بھٹکے ہوئے بھائیوں کو پھر اس رستہ پر لے آئے جسے انہوں نے کس محبت اور کن امنگوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں اختیار کیا تھا اور خدا وہ وقت نہ لائے کہ حضرت مسیح موعود قیامت کے دن اپنے صحابہ کی ایک جماعت کو دیکھ کر اُصَحَابِي أَصَيْحَابِی پکاریں مگر خدا کے فرشتے انہیں دھکیل کر دوسری طرف لے جائیں۔بس میں اس وقت اس مضمون پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ:۔دل میں اک درد اٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانیئے کیا یاد آیا اختلافی مسائل کا آغاز و انجام : ہم بتا چکے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ہی منکرین خلافت کا عقیدہ تین اہم باتوں میں جماعت احمدیہ کے سوادِ اعظم سے جدا ہو چکا تھا یعنی اوّل خلافت کا سوال۔دوسرے یہ سوال کہ آیا حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا ضروری ہے یا نہیں۔اور تیسرے حضرت مسیح موعود کی نبوت کا مسئلہ۔یہ لوگ خلافت کے منکر اور ایک انجمنی نظام کے قائل تھے اور حضرت مسیح موعود پر ایمان لانے کو اچھا تو خیال کرتے تھے بلکہ ان میں سے اکثر اسے ترقی درجات کے لئے ضروری بھی قرار دیتے تھے مگر نجات کے لئے اسے ضروری نہیں سمجھتے تھے یعنی ان کا یہ عقیدہ تھا کہ آپ پر ایمان لانے کے بغیر بھی انسان نجات پاسکتا ہے اور تیسرے یہ کہ وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح آنحضرت کے بعد نبوت کے دروازہ کو کلیۂ بند خیال کرتے تھے اور اس بات کے مدعی تھے کہ حضرت مسیح موعود نے نبوت کا دعوی نہیں کیا بلکہ صرف جزوی مشابہت کی وجہ سے استعارہ کے رنگ میں کبھی کبھی اس لفظ کو اپنے متعلق استعمال کیا ہے۔ان عقائد میں سے مقدم الذکر دو عقیدے تو حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں ہی ظاہر و عیاں ہو چکے تھے مگر نبوت کے متعلق ان اصحاب کے عقیدے نے آہستہ آہستہ تدریجی رنگ میں تبدیلی اختیار کی جس کی پوری پوری تشکیل حضرت خلیفہ اول