سلسلہ احمدیہ — Page 339
۳۳۹ حضرت خلیفہ اول نے مقر فر مایا تھا اور مولوی صدر الدین صاحب کو صدر انجمن احمدیہ نے خود بخود خواجہ کمال الدین صاحب کے سفر ولایت کے ایام میں عارضی ممبر مقرر کر لیا تھا۔بہر حال اس نقشہ سے ظاہر ہے کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے وقت بھی صدر انجمن احمدیہ کی اکثریت خلافت کی موید تھی۔یہی وجہ ہے کہ منکرین خلافت اس بات پر مجبور ہوئے کہ صدرانجمن احمد یہ سے۔ہاں وہی صدر انجمن احمد یہ جو ان کی اس قدر منظور نظر تھی۔قطع تعلق کر کے اس کی جگہ لا ہور میں ایک علیحدہ انجمن قائم کر لیں۔گویا حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد ان اصحاب کا صرف خلافت سے ہی قطع تعلق نہیں ہوا بلکہ صدر انجمن احمدیہ سے بھی قطع تعلق ہو گیا اور وہ مرکز سلسلہ کو چھوڑ کر لا ہور چلے گئے اور وہاں اپنی ایک جداگانہ انجمن بنالی جسکا نام انجمن احمد یہ اشاعت اسلام ہے۔جس وقت یہ اصحاب قادیان کو چھوڑ کر جارہے تھے اس وقت ان کے تعمیراتی پروگرام نے صدر انجمن احمدیہ کے خزانے کو بالکل خالی کر رکھا تھا اور صرف چند آنوں کے پیسے باقی تھے اور دوسری طرف یہ لوگ اس قدر خود بینی میں مبتلا تھے کہ سمجھتے تھے کہ ہمارے چلے جانے سے یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور ہمارے بعد کوئی شخص اس نظام کو چلا نہیں سکے گا۔چنانچہ ان کے ایک معزز رکن نے قادیان سے جاتے ہوئے سلسلہ کی عمارات کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اب یہاں اُلو بولیں گے۔یہ کلمہ اس انتہائی نخوت کا ایک گندہ ابال تھا جو ان لوگوں کے دماغوں میں غلبہ پائے ہوئے تھی اور اس سے اس بے قمیتی پر بھی روشی پڑتی تھی جس کا یہ لوگ شکار ہورہے تھے کیونکہ خواہ وہ قادیان سے جار ہے تھے مگر بہر حال قادیان ان کے روحانی پیشوا اور کے بانی حضرت مسیح موعود کا مولد ومسکن و مدفن تھا اور سلسلہ کی تمام روایات قادیان سے وابستہ تھیں۔پس اگر ان لوگوں کے دل میں مرکز سلسلہ کی ذرا بھی محبت ہوتی تو ان کے منہ سے قادیان کے متعلق اس قسم کے الفاظ ہر گز نہ نکلتے۔کہتے ہیں کہ محبوب کی گلی کا کتا بھی پیارا ہوتا ہے مگر ان لوگوں نے اپنے محبوب کے مکانوں اور ہزاروں خدائی نشانات کی جلوہ گاہ عمارتوں اور بیسیوں شعائر اللہ کو محبوب کی گلی کے کتے کے برابر بھی حیثیت نہیں دی۔ا