سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 319 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 319

۳۱۹ بارش سے پہلے بادلوں کی گرج ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود نے خدا سے علکم پا کر اپنے دعوی مسیحیت کا اعلان فرمایا تو کس طرح مذہبی دنیا کی فضا بادلوں کی گرج اور بجلیوں کی کڑک سے گونجنے لگ گئی۔اسی طرح اب جبکہ خدا کے برگزیدہ میسج کا موعود خلیفہ مسند خلافت پر قدم رکھ رہا تھا تو دنیا نے پھر وہی نظارہ دیکھا اور احمد بیت کے آسمان پر گھٹا ٹوپ بادلوں کی گرجوں نے آنے والے کا خیر مقدم کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح اول کی وفات کے وقت وہ اختلاف جوعر فامخفی کہلا تا تھا مگر حقیقہ اب مخفی نہیں رہا تھا یکدم پھوٹ کر باہر آ گیا۔قادیان کی جماعت کو حضرت خلیفہ اول کی وفات کی خبر اس وقت ملی جبکہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب مسجد اقصیٰ میں جمعہ کی نماز پڑھا کر مسجد سے باہر آ رہے تھے۔اس پر سب لوگ گھبرا کر فورا نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی پر پہنچے جہاں حضرت خلیفہ اول اپنی بیماری کے آخری ایام میں تبدیل آب و ہوا کے لئے تشریف لے گئے ہوئے تھے اور قادیان کی نئی آبادی کا کھلا میدان گویا میدان حشر بن گیا۔بے شک حضرت خلیفہ اول کی جدائی کا غم بھی ہر مومن کے دل پر بہت بھاری تھا مگر اس دوسرے غم نے جو جماعت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ہر مخلص احمدی کے دل کو کھائے جار ہا تھا اس صدمہ کو سخت ہولناک بنادیا تھا۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے جمعہ کے دن سوا دو بجے کے قریب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی اور دوسرے دن نماز عصر کے بعد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے گویا یہ قریباً چھپیں (۲۶) گھنٹہ کا وقفہ تھا جو قادیان کی جماعت پر قیامت کی طرح گزرا۔اس نظارے کو دیکھنے والے بہت سے لوگ گزر گئے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس کے بعد پیدا ہوئے یا وہ اس وقت اس قدر کم عمر تھے کہ ان کے دماغوں میں ان واقعات کا نقشہ محفوظ نہیں مگر جن لوگوں کے دلوں میں ان ایام کی یا قائم ہے وہ اسے کبھی بھلا نہیں سکتے۔میں پھر کہتا ہوں کہ وہ دن جماعت کے لئے قیامت کا دن تھا اور میرے اس بیان میں قطعا کوئی مبالغہ نہیں۔ایک نبی کی جماعت