سلسلہ احمدیہ — Page 302
٣٠٢ اسے مشورہ لینے اور لوگوں کی رائے کا علم حاصل کرنے کا ضرور حکم ہے۔اسلام میں یہ نظام خلافت ایک نہایت عجیب و غریب بلکہ عدیم المثال نظام ہے یہ نظام موجود الوقت سیاسیات کی اصطلاح میں نہ تو پوری طرح جمہوریت کے نظام کے مطابق ہے اور نہ ہی اسے موجودہ زمانہ کی ڈکٹیٹر شپ کے نظام سے تشبیہہ دے سکتے ہیں بلکہ یہ نظام ان دونوں کے بین بین ایک علیحدہ قسم کا نظام ہے۔جمہوریت کے نظام سے تو وہ اس لئے جدا ہے کہ جمہوریت میں صدر حکومت کا انتخاب میعادی ہوتا ہے مگر اسلام میں خلیفہ کا انتخاب میعادی نہیں بلکہ عمر بھر کے لئے ہوتا ہے۔دوسرے جمہوریت میں صدر حکومت بہت سی باتوں میں لوگوں کے مشورہ کا پابند ہوتا ہے مگر اسلام میں خلیفہ کو مشورہ لینے کا حکم تو بے شک ہے مگر وہ اس مشورہ پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔بلکہ مصلحت عامہ کے ماتحت اسے رد کر کے دوسرا طریق اختیار کر سکتا ہے۔دوسری طرف یہ نظام ڈکٹیٹر شپ سے بھی مختلف ہے کیونکہ اول تو ڈکٹیٹر شپ میں میعادی اور غیر میعادی کا سوال نہیں ہوتا اور دونوں صورتیں ممکن ہوتی ہیں دوسرے ڈکٹیٹر کو عموماً کلی اختیارات حاصل ہوتے ہیں حتی کہ وہ حسب ضرورت پرانے قانون کو بدل کر نیا قانون جاری کر سکتا ہے مگر نظام خلافت میں خلیفہ کے اختیارات بہر صورت شریعت اسلامی اور نبی متبوع کی ہدایات کی قیود کے اندر محدود ہیں۔اسی طرح ڈکٹیٹر مشورہ لینے کا پابند نہیں مگر خلیفہ کومشورہ لینے کا حکم ہے۔الغرض خلافت کا نظام ایک نہایت ہی نادر اور عجیب و غریب نظام ہے جو اپنی روح میں تو جمہوریت کے قریب تر ہے مگر ظاہری صورت میں ڈکٹیٹر شپ سے زیادہ قریب ہے۔مگر وہ حقیقی فرق جو خلافت کو دنیا کے جملہ نظاموں سے بالکل جدا اور ممتاز کر دیتا ہے وہ اس کا دینی منصب ہے۔خلیفہ ایک انتظامی افسر ہی نہیں ہوتا بلکہ نبی کا قائم مقام ہونے کی وجہ سے اسے ایک روحانی مقام بھی حاصل ہوتا ہے۔وہ نبی کی جماعت کی روحانی اور دینی تربیت کا نگران ہوتا ہے اور لوگوں کے لئے اسے عملی نمونہ بننا پڑتا ہے اور اس کی سنت سند قرار پاتی ہے۔ابو داؤد كتاب السنة