سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 283 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 283

۲۸۳ کریں اور ایک نبی کی سچائی پر جو قوم کے درمیان ہو گواہی دیں اور لوگ ان کو شناخت کرلیں کہ در حقیقت یہ لوگ مر چکے تھے اور اب زندہ ہو گئے ہیں اور وعظوں اور لیکچروں سے شور مچادیں کہ در حقیقت یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے سچا ہے۔سو یا د رہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر نہیں ہوئے اور نہ آئندہ قیامت سے پہلے کبھی ظاہر ہوں گے اور جو شخص دعوی کرتا ہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر ہو چکے ہیں وہ محض بے بنیاد قصوں سے فریب خوردہ ہے اور اس کو سنت اللہ کا علم نہیں۔اگر ایسے معجزات ظاہر ہوتے تو دنیا دنیا نہ رہتی اور تمام پر دے کھل جاتے اور ایمان لانے کا ایک ذرہ بھی ثواب باقی نہ رہتا۔یادر ہے کہ معجز ہ صرف حق اور باطل میں فرق دکھلانے کے لئے اہل حق کو دیا جاتا ہے اور معجزہ کی اصل غرض صرف اس قدر ہے کہ عقل مندوں اور منصفوں کے نزدیک سچے اور جھوٹے میں ایک ما بہ الامتیاز قائم ہو جائے۔‘1 جنت و دوزخ کی حقیقت : جنت و دوزخ کی حقیقت کے متعلق مذاہب میں بڑا اختلاف ہے اور مسلمانوں نے بھی جنت و دوزخ کا ایک عجیب و غریب نقشہ بنا رکھا ہے جو قرآن شریف اور حدیث کے مفہوم کو غلط سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔عام مسلمانوں میں جو تصور جنت و دوزخ کا پایا جاتا ہے وہ موٹے طور پر یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں اچھے یا برے اعمال بجالاتا ہے جن کے نتیجہ میں موت کے بعد اسے انعام یا سزا کی صورت میں اجر ملے گا۔انعام اس صورت میں ہو گا کہ انسان کوعلیٰ قدر مراتب بڑے بڑے خوبصورت اور شاداب باغوں میں رکھا جائے گا جن میں پانی اور دودھ کی نہریں بہتی ہوں گی اور طرح طرح کے شیریں پھل ہوں گے اور انسان کی خدمت کے لئے مستعد نوجوان لڑکے اور چست و چاق نوجوان لڑکیاں مقرر ہوں گی اور جنت میں کوئی پہلو غم اور تکلیف کا نہیں ہوگا اور انسان کو ایک ابدی اور دائمی خوشی کی زندگی نصیب ہوگی وغیرہ وغیرہ۔اس کے مقابل پر دوزخ لے براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲ تا ۴۴