سلسلہ احمدیہ — Page 282
۲۸۲ حلیہ بدل کر آسمان کی طرف اڑ گئے یا یہ کہ حضرت سید عبدالقادر صاحب نے ایک کئی سال کی ڈوبی ہوئی کشتی کو دریا سے باہر نکال کر اس کے مردوں کو از سر نو زندگی دے دی وغیرہ وغیرہ۔یہ سب خوش عقیدگی کے قصے ہیں جن میں کچھ بھی حقیقت نہیں سوائے اس کے کہ بعض صورتوں میں استعارہ کے کلام کو حقیقت پر محمول کر لیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود نے معجزات کے متعلق اپنی تصنیفات میں کئی جگہ بحث فرمائی ہے مگر ہم اس جگہ اختصار کے خیال سے صرف ایک اقتباس کے درج کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔ایمان اس حد تک ایمان کہلاتا ہے کہ ایک بات من وجہ ظاہر ہو اور من وجہ پوشیدہ بھی ہو۔یعنی ایک بار یک نظر سے اس کا ثبوت ملتا ہو اور اگر باریک نظر سے نہ دیکھا جائے تو سرسری طور پر حقیقت پوشیدہ رہ سکتی ہو لیکن جب سا را پرده ہی کھل گیا تو کون ہے کہ ایسی کھلی بات کو قبول نہیں کرے گا۔سو معجزات سے وہ امور خارق عادت مراد ہیں جو باریک اور منصفانہ نظر سے ثابت ہوں اور بجز مؤیدان الہی دوسرے لوگ ایسے امور پر قادر نہ ہو سکیں۔اسی وجہ سے وہ امور خارق عادت کہلاتے ہیں مگر بد بخت از لی ان معجزانہ امور سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے در حقیقت معجزات کی مثال ایسی ہے جیسے چاندنی رات کی روشنی جس کے کسی حصہ میں کچھ بادل بھی ہو۔مگر وہ شخص جو شب کو ر ہو جو رات کو کچھ نہیں دیکھ سکتا اس کے لئے یہ چاندنی کچھ مفید نہیں۔ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس دنیا کے معجزات اسی رنگ سے ظاہر ہوں جس رنگ سے قیامت میں ظہور ہو گا۔مثلاً دو تین سو مردے زندہ ہو جائیں اور بہشتی پھل ان کے پاس ہوں اور دوزخ کی آگ کی چنگاریاں بھی پاس رکھتے ہوں اور شہر بہ شہر دورہ