سلسلہ احمدیہ — Page 234
۲۳۴ شرارت سے صلیب پر تو ضرور چڑھائے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لعنتی موت سے بچالیا جس کے بعد وہ خفیہ خفیہ اپنے ملک سے ہجرت کر گئے۔(۲) یہ کہ اپنے ملک سے نکل کر حضرت مسیح آہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے کشمیر میں پہنچے اور وہیں ان کی وفات ہوئی اور وہیں آج تک ان کی قبر موجود ہے۔(۳) یہ کہ قرآن شریف اور حدیث کی رو سے کوئی حقیقی مردہ زندہ ہو کر اس دنیا میں دوبارہ واپس نہیں آسکتا اس لئے مسیح کو فوت شدہ مان کر ان کی دوبارہ آمد کا انتظار بے سود ہے۔(۴) یہ کہ اسلامی تعلیم کی رو سے کوئی فرد بشر اس جسم عصری کے ساتھ آسمان پر نہیں جاسکتا اس لئے مسیح کے زندہ آسمان پر چلے جانے کا خیال بھی باطل ہے۔(۵) یہ کہ بے شک مسیح کی آمد ثانی کا وعدہ تھا مگر اس سے مراد ایک مثیل مسیح کا آنا تھا نہ کہ خود مسیح کا۔(1) یہ کہ مثیل مسیح کی بعثت کا وعدہ خود آپ کے وجود میں پورا ہوا ہے اور آپ ہی وہ موعود مسیح ہیں جس کے ہاتھ پر دنیا میں حق و صداقت کی آخری فتح مقدر ہے۔اس شق کی ذیل میں یعنی اپنے مسیح موعود ہونے کی تائید میں آپ نے مندرجہ ذیل ثبوت پیش کئے:۔(الف) یہ کہ مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق جو علامتیں بیان کی گئی تھیں وہ موجودہ زمانہ پر چسپاں ہوتی ہیں یعنی مسلمانوں کی حالت کا بگڑ جانا۔صلیبی مذہب کا زوروں میں ہونا۔دجال کا خروج۔پر لیس اور ریل وغیرہ کی ایجاد کا ظہور وغیرہ۔(ب) یہ کہ مسیح موعود کے نزول کی جگہ کے متعلق جو خبر دی گئی تھی کہ وہ مشرقی ممالک میں یعنی بلا دشام کے مشرق کی طرف ظاہر ہوگا وہ بھی آپ کے مقام ظہور یعنی قادیان پر چسپاں ہوتی ہے۔(ج) یہ کہ مسیح ناصری کے حلیہ کے مقابل پر جو حلیہ مسیح موعود کا بیان کیا گیا تھا