سلسلہ احمدیہ — Page 186
۱۸۶ ’احمد یہ موومنٹ“ میں لکھا:۔وو یہ بات ہر طرح سے ثابت ہے کہ مرزا صاحب اپنی عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھنے والے تھے۔ان کی اخلاقی جرات جو انہوں نے اپنے مخالفین کی طرف سے شدید مخالفت اور ایذا رسانی کے مقابلہ میں دکھائی یقیناً قابل تحسین ہے۔صرف ایک مقناطیسی جذب اور دلکش اخلاق رکھنے والا شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفاداری حاصل کر سکتا ہے جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کے لئے جان دیدی مگر مرزا صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔میں نے بعض پرانے احمدیوں سے ان کے احمدی ہونے کی وجہ دریافت کی تو اکثر نے سب سے بڑی وجہ مرزا صاحب کے ذاتی اثر اور جذب اور مقناطیسی شخصیت کو پیش کیا میں نے ۱۹۱۶ء میں قادیان جا کر (حالانکہ اس وقت مرزا صاحب کو فوت ہوئے آٹھ سال گزر چکے تھے ) ایک ایسی جماعت دیکھی جس میں مذہب کے لئے وہ سچا اور زبردست جوش موجود تھا جو ہندوستان کے عام مسلمانوں میں آجکل مفقود ہے۔قادیان میں جا کر انسان سمجھ سکتا ہے کہ ایک مسلمان کو محبت اور ایمان کی وہ روح جسے وہ عام مسلمانوں میں بے سود تلاش کرتا ہے احمد کی جماعت میں بافراط ملے گی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کی وفات پر دی سول اینڈ ملٹری گزٹ لا ہور۔دی علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ علی گڑھ۔دی یونیٹی اینڈ منسٹر کلکتہ۔دی ٹائمنر لنڈن وغیرہ وغیرہ نے تعریفی نوٹ شائع کئے مگر اس مختصر رسالہ میں ان سب نوٹوں کے درج کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔لی ترجمه از احمدیہ موومنٹ مصنفہ مسٹر والٹرایم۔اے