سلسلہ احمدیہ — Page 166
۱۶۶ جو خدا نے آپ کے ذریعہ ظاہر کئے اور آپ نے بتایا کہ آپ کی پیشگوئیاں کس طرح پوری ہوئیں آپ کے مخالف کس طرح خدائی عذابوں کا نشانہ بنے اور آپ کے دوستوں نے کس طرح خدا کی رحمت سے حصہ پایا اور خدا نے آپ کی تائید میں کیا کیا زبردست نشانات ظاہر کئے وغیر ذالک۔الغرض یہ کتاب ایک لا جواب تصنیف ہے جس کے مطالعہ سے ہر غیر متعصب شخص کو گو یا خدا کا چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔پنجاب میں بغاوت اور اس پر حضرت مسیح موعود کا اعلان :۔۱۹۰۷ء میں پنجاب کے اندر ایک بہت بھاری پولیٹکل ہیجان پیدا ہوا جس کی ابتداء سودیشی کے سوال سے ہوئی تھی مگر آہستہ آہستہ بات بڑھ گئی اور اس تحریک نے ایک گونہ بغاوت کا رنگ اختیار کر لیا جس کے نتیجہ میں ہندوؤں کے مشہور لیڈر لالہ لاجپت رائے پنجاب سے جلا وطن کئے گئے۔اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود نے ایک اشتہارے کے ذریعہ اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی کہ وہ ہر طرح پر امن رہیں اور کسی قسم کی باغیانہ اور قانون شکن کارروائی میں حصہ نہ لیں۔دراصل حضرت مسیح موعود ہمیشہ سے اسلام کی اصولی تعلیم کے ماتحت اپنی جماعت کو یہ نصیحت فرماتے رہتے تھے کہ انسان کو حکومت وقت کا وفا دار رہنا چاہئے اور اس کے خلاف کسی قسم کی باغیانہ کارروائی میں حصہ نہیں لینا چاہئے بلکہ ایک پر امن شہری کے طور پر زندگی بسر کرنی چاہئے آپ اس بات کے خلاف نہیں تھے کہ لوگ حکومت سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں مگر آپ اس بات کو ناجائز قرار دیتے تھے کہ یہ مطالبہ قانون شکنی کی صورت میں باغیانہ طریق اختیار کر کے کیا جاوے بلکہ نصیحت فرماتے تھے کہ ایسے مطالبات قانون کے اندر رہتے ہوئے پیش کرنے چاہئیں اور کوئی ایسا طریق اختیار نہیں کرنا چاہئے جو ملک میں امن شکنی اور فتنہ وفساد کا باعث ہو۔اور آپ اس لحاظ سے حکومت انگریزی کی بہت تعریف فرمایا کرتے تھے کہ اس کے ذریعہ ملک میں ایک مستحکم نظام حکومت قائم ہے جوفتنہ وفساد کے رستے کو روکتا ہے اور ہر قوم کو اپنے عقائد و خیالات کی پر امن تبلیغ کے لئے پوری پوری آزادی حاصل ہے اور آپ اس بات کو پسند نہیں فرماتے تھے کہ یہ آزادی اور یہ امن کسی طرح خطرہ میں پڑے۔مگر یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ حکومت کے متعلق آپ کی وفاداری کی تعلیم ے اشتہار مورخہ ۷ رمئی ۱۹۰۷ء مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷۰۸ تا ۷۱۰ جدید ایڈیشن