سلسلہ احمدیہ — Page 141
۱۴۱ سے محروم رہ گئے اور سیالکوٹ سٹیشن پر تو حد ہی ہوگئی جہاں تک نظر جاتی تھی لوگوں کے سر ہی سر نظر آتے تھے۔سٹیشن کی عمارتیں۔پاس کے مکانات اور دو کا نات اور راستے وغیرہ اس طرح بھرے ہوئے تھے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی اور یہ ہجوم صرف سٹیشن کے قرب و جوار تک محدود نہیں تھا بلکہ سٹیشن سے لے کر اس جگہ تک جہاں حضرت مسیح موعود نے قیام کرنا تھا جو قریباً ایک میل کے فاصلہ پر تھی لوگوں کا مسلسل ہجوم تھا اور راستہ میں حضرت مسیح موعود کی گاڑی کے لئے راستہ صاف رکھنے کے واسطے پولیس کو خاص انتظام کرنا پڑا اور کئی افسر ڈیوٹی پر لگے ہوئے تھے۔شاید یہ نظارہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے دکھایا کہ دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ جس شہر میں دعوی سے پہلے آپ ایک بالکل غیر معروف صورت میں کسم پرسی کی حالت میں رہتے تھے وہاں دعویٰ کے بعد خدا کی نصرت نے آپ کی مقبولیت کو کہاں تک پہنچا دیا کہ باوجود انتہائی مخالفت کے دنیا امدی چلی آتی ہے۔سیالکوٹ میں آپ نے ایک ہفتہ قیام کیا اور لوگوں کی خواہش پر یہاں بھی آپ نے ایک پبلک جلسہ میں تقریر فرمائی۔یہ تقریر بھی لکھی ہوئی تھی جسے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھا جو اسی شہر کے رہنے والے تھے اور اپنی آواز اور سحر بیانی سے لوگوں کو مسحور کر لیتے تھے۔باوجود اس کے کہ علماء کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب کی تقریر میں کوئی شخص نہ جائے اور لوگوں کو روکنے کی غرض سے ایک بالمقابل جلسہ بھی منعقد کیا گیا اور لیکچر گاہ کے دروازوں پر بھی بہکانے والے آدمی مقرر کئے گئے مگر پھر بھی لوگ بڑی کثرت کے ساتھ جلسہ میں شریک ہوئے اور تقریر نہایت کامیاب ہوئی۔دوران تقریر میں بعض فتنہ پرداز لوگوں نے شور کرنا چاہا مگر پولیس نے روک دیا اور کسی قسم کی گڑ بڑ نہیں ہوسکی۔اس تقریر میں حضرت مسیح موعود نے اسلام اور احمدیت کی صداقت کے دلائل بیان کئے مگر جو بات اس تقریر میں حضرت مسیح موعود کی طرف سے خاص طور پر پیش کی گئی وہ مثیل کرشن ہونے کا دعویٰ تھا۔یہ دعویٰ پہلے سے آپ کی تحریرات میں آچکا تھا مگر اس موقعہ پر آپ نے خصوصیت سے اس بات کا اعلان فرمایا کہ خدا نے آپ کو بتایا ہے کہ جس طرح آپ مثیل مسیح اور مثیل موسیٰ اور بہت سے دوسرے