سلسلہ احمدیہ — Page 140
۱۴۰ تقریر کے اختتام پر حاضرین نے خواہش کی کہ حضرت مسیح موعودا اپنی زبان سے بھی کچھ فرما ئیں چنانچہ آپ نے تحریری تقریر کے پڑھے جانے کے بعد ایک مختصر زبانی تقریر بھی کی جس کا بہت اچھا اثر ہوا اور اس طرح یہ جلسہ نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔چونکہ یہ زمانہ سخت مخالفت کا زمانہ تھا اور ہر قتم کے لوگوں کا رجوع عام تھا اس لئے اس جلسہ کے موقعہ پر پولیس کی طرف سے خاص انتظام تھا۔ہندوستانی اور گورہ پولیس دونوں کا پہرہ تھا اور گورہ پولیس نی تلواروں کے ساتھ ڈیوٹی پر حاضر تھی اور نہ صرف جلسہ گاہ میں پہرے کا انتظام تھا بلکہ راستہ میں بھی مضبوط پہرہ متعین تھا۔اور آپ کی گاڑی کے آگے اور پیچھے گھوڑے سوار سپاہی کام پر لگے ہوئے تھے اس لئے باوجود اس کے کہ بعض شریر اور فتنہ پرداز لوگ شرارت کا ارادہ رکھتے تھے کسی کو جرات نہیں ہوئی اور پندرہ دن کے قیام کے بعد آپ لاہور سے گورداسپور تشریف لے گئے لے سفر لاہور کے قریباً دو ماہ بعد یعنی اکتوبر ۱۹۰۴ء کے آخر میں جب کہ ماتحت عدالت نے مولوی کرم دین والے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا آپ سیالکوٹ تشریف لے گئے۔اس سفر کی وجہ یہ تھی کہ سیالکوٹ کی جماعت نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ آپ اپنی ابتدائی عمر میں کئی سال تک سیالکوٹ میں رہے ہیں پس اب بھی جبکہ خدا نے آپ کو ایسی عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی ہے آپ ایک دفعہ پھر چند دن کے لئے سیالکوٹ تشریف لے چلیں اور اس شہر کو اپنے مبارک قدموں سے برکت دیں۔آپ نے جماعت کی اس خواہش کو منظور فرما لیا اور ۱/۲۷اکتوبر کو سیالکوٹ تشریف لے گئے۔اس سفر کی کامیابی نے جہلم اور لاہور کے سفروں کو بھی مات کر دیا اور راستے کے سٹیشنوں پر اور بالآ خر سیالکوٹ کے سٹیشن پر زائرین کا اس قدر ہجوم تھا کہ محکمہ ریلوے اور پولیس کے لئے انتظام سخت مشکل ہو گیا۔مسلمان۔ہندو۔سکھ۔عیسائی غرض ہر قوم کے لوگ اس شخص کو دیکھنے کے لئے ٹوٹے پڑتے تھے جس نے اپنے دعووں اور اپنی پیشگوئیوں کے ساتھ ملک میں ایک زلزلہ برپا کر رکھا تھا۔اس سفر میں لاہور کے سٹیشن پر اس قدر ہجوم تھا کہ پلیٹ فارم ٹکٹ ختم ہو گئے اور بہت سے لوگ سٹیشن کے اندر آنے دیکھو الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۷