سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 132 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 132

۱۳۲ کرے اور آپ نے لکھا کہ میرے اس اشتہار کو مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے اخبار میں شائع کر دیں اور اپنی طرف سے اس کے نیچے جو چاہیں لکھ دیں لے اس پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے بڑ اواویلا کیا اور لکھا کہ یہ اشتہار میری اجازت کے بغیر اور میری مرضی کے خلاف شائع ہوا ہے اور مجھے یہ طریق فیصلہ منظور نہیں اور نہ کوئی عقلمند سے منظور کر سکتا ہے بلکہ یہاں تک لکھا کہ مسیلمہ کذاب آنحضرت علی کے بعد تک زندہ رہا تھا تو کیا یہ بات اس کے سچا ہونے کی دلیل ہوگی ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود نے یہ نہیں لکھا تھا کہ ہر صورت میں دوسرے کی زندگی میں مرنا جھوٹے ہونے کی دلیل ہے بلکہ یہ لکھا تھا کہ بالمقابل دعا کے بعد نشان کے طور پر دوسرے کے سامنے ہلاک ہونا جھوٹے ہونے کی دلیل ہے اور آپ مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق یہ بھی تحریر فرما چکے تھے کہ اگر مولوی صاحب نے اس طریق فیصلہ کو مان لیا کہ صادق کا ذب سے پہلے مرے تو پھر وہ ضرور ہلاک ہوں گے۔سے لیکن باوجود غیرت دلائے جانے کے مولوی صاحب نے اس فیصلہ کو نہ مانا اور صاف انکار کیا اور تکرار کے ساتھ صراحتاً لکھا کہ مجھے یہ طریق فیصلہ منظور نہیں۔پس جب مولوی صاحب نے اس طریق فیصہ کو رد کر دیا بلکہ پیچھے زندہ رہنے والے کو مسیلمہ کذاب قرار دیا تو خدا نے ان کا پھندا انہی پر لوٹا دیا اور ان کی رسی دراز کر دی۔چنانچہ وہ اب تک اپنے ہی پیش کردہ اصول يَمُدُّهُمُ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ کے ماتحت کے لئے کھاد کا کام دے رہے ہیں۔اور اس عذاب سے حصہ لے رہے ہیں جو دنیا کے سخت ترین عذابوں میں سے ایک عذاب ہے یعنی اپنی آنکھوں سے اپنی ذلت و نا کامی اور اپنے مخالف فریق کی عزت و کامیابی کو دیکھنا اور اس کی جماعت کی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کو مشاہدہ کرنا۔ان حالات میں یہ یقینی ہے کہ جب تک وہ اپنی پوری ڈور حاص نہیں کر لیں گے ملک الموت ان کی آخری قضاء وقدر کورو کے رکھے گا۔لیکن حضرت مسیح موعود کے بعض الہاموں سے پتہ لگتا ہے کہ بالآ خر مولوی شاء اللہ صاحب کی موت بھی جب بھی کہ وہ ہوگی حضرت مسیح موعود کی صداقت کا ایک نشان ہوگی جس طرح کہ ان کی زندگی ایک نشان ہے۔ے دیکھو اشتہار ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء تلخیص از مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۷۰۶،۷۰۵ جدید ایڈیشن اہلحدیث مور محه ۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ء سے اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴۸