سلسلہ احمدیہ — Page 133
۱۳۳ ایک اور مقدمہ کا آغاز اور سفر جہلم اور سفر گورداسپور :۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے دشمنوں کا ایک حربہ یہ بھی تھا کہ آپ پر جھوٹے مقدمات کھڑے کر کے نقصان پہنچایا جاوے۔چنانچہ ۱۹۰۳ء کے شروع میں آپ کے خلاف پھر ایک فوجداری مقدمہ قائم کیا گیا۔یہ مقدمہ ایک شخص مولوی کرم دین ساکن بھیں ضلع جہلم کی طرف سے تھا جس میں مولوی کرم دین نے یہ استغاثہ دائر کیا تھا کہ مرزا صاحب نے میرے متعلق اپنی کتاب ”مواہب الرحمن میں جھوٹے اور کمینہ کے الفاظ لکھے ہیں جو میری ازالہ حیثیت عرفی کا موجب ہوئے ہیں۔اس مقدمہ کی بنائی تھی کہ مولوی کرم دین نے حضرت مسیح موعود کو ایک خط لکھا تھا جس میں یہ ظاہر کیا تھا کہ میں آپ کا ہمدرد ہوں اور اس میں یہ اطلاع دی تھی کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑ وی جو کتاب آپ کی کتاب "اعجاز مسیح “ کے مہرعلی مقابلہ پر لکھ رہے ہیں اس میں انہوں نے ایک دوسرے شخص کی کتاب کے مسودہ سے سرقہ کیا ہے۔مولوی کرم دین کا یہ خط اخبار الحکم قادیان میں چھاپ دیا گیا تا کہ یہ ظاہر ہو کہ سلسلہ کے مخالفین کس اخلاق اور کس ذہنیت کے لوگ ہیں۔اس پر مولوی کرم دین نے برافروختہ ہو کر ایک مضمون شائع کیا کہ میں نے یونہی بنسی اور امتحان کے خیال سے یہ ساری بات لکھی تھی ورنہ پیر مہرعلی شاہ صاحب نے کوئی سرقہ نہیں کیا جب حضرت مسیح موعود کو مولوی کرم دین کے اس مضمون کی اطلاع ہوئی تو آپ کو اپنے مخالف مولویوں کی حالت پر سخت افسوس ہوا اور آپ نے اپنی عربی کتاب ” مواہب الرحمن میں جوان ایام میں زیر تصنیف تھی مولوی کرم دین کے متعلق لکھا کہ یہ شخص کذاب اور لٹیم ہے یعنی جھوٹ بولنے والا اور کمینہ مزاج شخص ہے کہ ایسے سنجیدہ معاملات میں بھی اس نے جھوٹ اور کمینگی سے کام لیا ہے۔اس پر مولوی کرم دین نے حضرت مسیح موعود کے خلاف ازالہ حیثیت کا دعویٰ دائر کر دیا جس کے جواب میں دفاع کے خیال سے ایک مقدمہ ایڈیٹر اخبار الحکم کی طرف سے مولوی کرم دین کے خلاف بھی دائر کر دیا گیا۔حضرت مسیح موعود کے خلاف مقدمہ کی پہلی پیشی جنوری ۱۹۰۳ء میں جہلم میں ہوئی چنانچہ آپ وہاں تشریف لے گئے۔اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو ایسی قبولیت عطا فرمائی اور