سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 114 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 114

۱۱۴ زمانہ کے وسیع فتنوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا کیا ہے اس لئے اس نے مجھے وہ طاقتیں بھی عطا کی ہیں جو اس کام کی سرانجام دہی کے لئے ضروری ہیں اور آپ نے لکھا کہ چونکہ حضرت مسیح ناصری کا مشن بہت محدود تھا اس لئے ان کی طاقتیں بھی محدود تھیں چنانچہ آپ نے دعوی کیا کہ اگر کسی پادری میں ہمت ہے تو وہ میرے سامنے آ کر اس بات کا امتحان کر لے کہ روحانی طاقت اور نشان نمائی میں مسیح ناصری اور مسیح محمدی میں کون افضل ہے؟ آپ نے تشریح فرمائی کہ خوش اعتقادی کا خیال جدا گانہ ہے لیکن اگر مسیح ناصری کے نشانات کو تنقیدی نظر سے دیکھا جاوے اور ان کی اصلی حقیقت پر غور کیا جائے تو یقینا وہ نشانات ان نشانات کے مقابلہ پر ادنی اور کم تر ثابت ہوں گے جو خدا میرے ہاتھ پر ظاہر کر رہا ہے۔الغرض آپ کو مسیح پرستی کے خلاف بہت جوش تھا اور آپ کو خدا نے الہاموں اور خوابوں کے ذریعہ یہ بشارت بھی دی تھی کہ جلد یا بدیر آپ کی لائی ہوئی روشنی سے یورپ منور ہوگا اس غرض کے لئے آپ نے ۱۹۰۲ء میں ایک انگریزی رسالہ کی بنیاد رکھی تا کہ اس کے ذریعہ سے مغربی ممالک میں مسیحیت کے خلاف اور اسلام کے حق میں مہم جاری کر سکیں اور چونکہ آپ خود انگریزی زبان سے ناواقف تھے آپ نے اس رسالہ کی ایڈیٹری اپنے ایک نوجوان اور انگریزی خوان مرید مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کے سپرد کی جو حضرت مسیح موعود کی ہدایات کے ماتحت آپ کے مضامین کا انگریزی میں ترجمہ کرتے یا آپ کے بتائے ہوئے نوٹوں کے مطابق خود مضمون لکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود کی توجہ کی برکت سے اس رسالہ نے حیرت انگیز رنگ میں ترقی کی اور بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ساری علمی دنیا میں اپنا سکہ جمالیا اور بڑے بڑے یورپین اور امریکن علماء نے اس کے مضامین کی تعریف میں پُر جوش ریویو لکھے اور اس کے دلائل کی قوت کو تسلیم کیا۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اس رسالہ کے اکثر مضامین خود حضرت مسیح موعود کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہوتے تھے اور بعض کے متعلق آپ نوٹ لکھا دیتے تھے اور آپ نے ان مضامین میں اپنے