سلسلہ احمدیہ — Page 115
۱۱۵ اسپ قلم کو مذاہب کے وسیع میدان کے ہر حصہ میں ڈالا اور اس میدان کا ہر کونہ اور گوشہ چھان ڈالا اور اسلام کی تائید اور مسیحیت اور دوسرے مذاہب کی تردید میں ایسے ایسے زبر دست مضامین لکھے کہ علمی دنیا میں ایک ہل چل مچ گئی۔مسیح ناصری کے معجزات پر۔آپ کے روحانی اثر پر۔آپ کی تعلیم پر۔آپ کے واقعہ صلیب پر۔صلیب سے بعد کے حالات پر۔آپ کی سیاحت ہند اور وفات پر۔آپ کے فرضی دعوئی خدائی پر۔تثلیث اور کفارہ پر۔غرض مسیحیت کے ہر شعبہ پر مضامین لکھے گئے اور دوسری طرف اسلام کی حقیقت اور آنحضرت ﷺ کی رسالت اور آپ کی روحانی طاقت اور آپ کی کامیابی اور آپ کی تعلیم کی برتری وغیرہ پر زبردست بحثیں کی گئیں اور اسی طرح دوسرے مذاہب کی تعلیمات پر بھی مضامین لکھے گئے اور رسالہ نے اپنے آپ کو صحیح معنوں میں ریویو آف ریلیجنز ثابت کر دیا۔چنانچہ اس رسالہ کے متعلق آل انڈیا بینگ من کرسچن ایسوسی ایشن کے سیکرٹری مسٹر وا کر نے لکھا کہ:۔یہ رسالہ اسم بامسٹمی ہے کیونکہ اس رسالہ نے مذاہب کے ایک نہایت وسیع حلقہ کو اپنے کام میں شامل کیا ہے اور مذہبی مضامین کے ایک بڑے وسیع دائرہ پر نظر ڈالی ہے۔مسٹراے اروب نے امریکہ سے لکھا:۔” اس رسالہ کے مضامین روحانی صداقتوں کی نہایت پر حکمت اور روشن تفسیر ہیں۔“ کونٹ ٹالسٹائے نے روس سے لکھا:۔اس رسالہ کے خیالات بڑے وزنی اور بڑے سچے ہیں۔“ پروفیسر ہالٹما ایڈیٹر انسائیکلوپیڈیا آف اسلام نے لکھا:۔یہ رسالہ از حد دلچسپ ہے۔“ ریویو آف ریویوز لندن نے لکھا:۔یورپ اور امریکہ کے وہ لوگ جو محمد (صلعم) کے مذہب میں دلچسپی رکھتے ہیں