سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 84 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 84

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ شیخ محمد بخش مذکور کا اکلوتا لڑکا حضرت مسیح موعود کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گیا اور اب وہ خدا کے فضل سے ایک مخلص احمدی ہیں اور ان کی والدہ اور بیوی بچے بھی احمدیت میں داخل ہو چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود کی اضطراب اور کرب کی دعائیں :۔اب حضرت مسیح موعود کے دھوئی ماموریت پر قریباً اٹھارہ سال گزر چکے تھے اور بیعت کے سلسلہ کو شروع ہوئے بھی دس سال ہو چکے تھے اور گو اس عرصہ میں آپ کی جماعت نے خدا کے فضل سے کافی ترقی کی تھی اور ہزاروں لوگ آپ کی بیعت میں داخل ہو چکے تھے مگر ساتھ ساتھ مخالفت کا طوفان بھی تیز ہوتا گیا تھا اور مسلمان علماء اور ان کے رفقاء نے آپ کے خلاف ایک خطر ناک آگ لگا رکھی تھی اور یہ لوگ دہری شرارت پر آمادہ تھے۔ایک طرف تو وہ گورنمنٹ کو خفیہ اور ظاہری رپورٹیں کر کر کے حکام کو آپ کے خلاف اکسانے اور بدظن کرنے میں مصروف تھے اور آپ کے دعوئی مہدویت کو آڑ بنا کر اس پراپیگنڈا میں مصروف تھے کہ گویا آپ اور آپ کی جماعت در پردہ گورنمنٹ کا تختہ الٹنے میں مصروف ہے اور دوسری طرف وہ آپ کو کافر اور بے دین اور دجال کہہ کر عوام الناس کو آپ کی طرف متوجہ ہونے سے روک رہے تھے اور انہوں نے لوگوں کے اندر یہ خیال پیدا کر دیا تھا کہ آپ کے ساتھ ملنے ملانے یا آپ کی تصانیف کے پڑھنے سے انسان بے دین اور خدا کی نظر میں ملعون ہو جاتا ہے۔غرض اس زمانہ میں مخالفت انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اور بدزبانی اور دشنام دہی اور گالی گلوچ کا تو کچھ ٹھکا ناہی نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود کے خلاف ایسے ایسے گندے اور اشتعال انگیز اشتہار اور رسالے شائع ہورہے تھے کہ ایک شریف انسان انہیں دیکھ نہیں سکتا اور عوام الناس میں جماعت کے خلاف ایک خطرناک جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔ان حالات میں حضرت مسیح موعود کو یہ احساس ہو رہا تھا کہ جماعت کی ترقی کا قدم اس تیز رفتاری کے ساتھ نہیں اٹھ رہا جس طرح کہ آپ چاہتے تھے کہ وہ اٹھے اس احساس نے آپ کو اس زمانہ میں غیر معمولی کرب اور اضطراب میں مبتلا کر رکھا تھا اور آپ بے تاب ہو ہو کر خدا کی طرف دیکھ رہے تھے اور