سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 432 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 432

۴۳۲ گھوڑوں پر سوار تھے اور چھ سات سے کم نہ تھے۔یہ برکت ڈھونڈ نے والے بیعت میں داخل ہوں گے اور ان کے بیعت میں داخل ہونے سے گویا سلطنت بھی اسی قوم کی ہوگی۔لے پھر آنے والے انقلابات کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔د میں نے دیکھا کہ زار روس کا سونٹا میرے ہاتھ میں آ گیا ہے۔وہ بڑا لمبا اور خوبصورت ہے اور اس سونٹے میں پوشیدہ نالیاں بھی ہیں۔گویا بظاہر سونا معلوم ہوتا ہے اور وہ بندوق بھی ہے۔کے اور پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔دیکھا کہ خوارزم بادشاہ جو بوعلی سینا کے وقت میں تھا جو اپنے عدل کے واسطے مشہور ہے اس کی تیر کمان میرے ہاتھ میں ہے اور اس بادشاہ اور بوعلی سینا کو بھی میں اپنے پاس کھڑا ہوا دیکھتا ہوں اور میں نے اس تیر کمان سے ایک شیر کو ہلاک کر دیا ہے۔“ سے ان کشوف اور خوابوں کا مطلب ظاہر ہے مگر چونکہ ہر نئی عمارت پرانی عمارت کی ویرانی کے بعد کھڑی کی جاتی ہے۔اس لئے دنیا کی آئندہ تباہی کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔وہ دن نزدیک ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ دروازے پر ہیں کہ دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی اور نہ صرف زلزلے بلکہ اور بھی ڈرانے والی آفتیں ظاہر ہوں گی کچھ آسمان سے اور کچھ زمین سے۔یہ اس لئے کہ نوع انسان نے اپنے خدا کی پرستش چھوڑ دی ہے اور تمام دل اور تمام ہمت اور تمام خیالات سے دنیا پر ہی گر گئے ہیں۔اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی۔پر میرے لے تجلیات الہیہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۰۹ ، والحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۱/۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۰ کالم نمبر ۳۰۲ تذکرہ صفحہ ۳۷۷ مطبوعہ ۲۰۰۴ء تذکرہ صفحہ ۳۷۸،۳۷۷ مطبوعہ ۲۰۰۴ء