سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 380 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 380

۳۸۰ دیا ہے تا کہ وہ اس کام کے قابل بنائی جاسکیں جو بڑے ہو کر انہیں پیش آنے والا ہے۔حضرت خلیفہ امسیح نے بھی اس نکتہ کو اپنی شروع خلافت سے مدنظر رکھا اور احمدی مستورات کی تنظیم اور تربیت کی طرف خاص توجہ فرمائی چنانچہ ۱۹۲۲ء کے آخر یا ۱۹۲۳ء کے شروع میں آپ نے قادیان میں لجنہ اماء اللہ کی بنیاد رکھی۔یہ انجمن خالصہ مستورات کی انجمن تھی اور اب تک ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے مخصوص فرائض مثلاً عورتوں کے چندوں کی تحصیل۔عورتوں میں تبلیغ۔لڑکیوں کی تعلیم۔مستورات کی تربیت اور تنظیم وغیرہ کا کام لیتی ہیں اور جب قادیان کی لجنہ کچھ عرصہ کام کر کے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے بیرونی جماعتوں میں بھی تحریک فرمائی کہ وہ اپنی اپنی جگہ مقامی لجنہ قائم کریں چنانچ اب خدا کے فضل سے بہت سے شہروں میں بجنات قائم ہیں جن میں سے بعض بہت اچھا کام کر رہی ہیں اور ان کے ذریعہ احمدی مستورات میں بہت بڑی بیداری اور کام کی زبر دست روح پیدا ہورہی ہے۔۱۹۲۵ء میں آپ نے اس کام کو مزید توسیع دی اور ایک خاص مدرسہ بڑی عمر کی لڑکیوں اور عورتوں کی تعلیم اور ٹرینگ کے لئے قادیان میں جاری فرمایا تا کہ چند منتخب شدہ عورتوں کو تعلیم دے کر مدرسی اور سلسلہ کے دوسرے کاموں کے لئے تیار کیا جا سکے۔چنانچہ اس مدرسہ سے بہت سی احمدی مستورات نے مولوی وغیرہ کے امتحانات پاس کئے اور ایک لڑکی پنجاب بھر میں مولوی کے امتحان میں اڈل رہی۔ان کی تعلیم میں دینیات اور تربیت اطفال وغیرہ کے علاوہ کچھ ابتدائی حساب کچھ تاریخ جغرافیہ اور کچھ انگریزی بھی شامل تھی۔اور اس کے ساتھ ہی مستورات کے لئے ایک علیحدہ لائبریری بھی قائم کی گئی۔اس کے بعد آپ نے ۱۹۲۶ء میں مستورات کے لئے ایک خاص رسالہ ” مصباح “ نامی جاری فرمایا اور مستورات میں تحریک کی کہ وہ اس رسالہ میں علمی اور تبلیغی اور تربیتی مضامین لکھا کریں۔یہ رسالہ اب تک جاری ہے اور مستورات میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا موجب بن رہا ہے۔اسی زمانہ کے قریب آپ نے مستورات میں یہ تحریک بھی فرمائی کہ وہ گھر یلو دستکاری کی