سلسلہ احمدیہ — Page 353
۳۵۳ خلاف زبر دست احتجاجی جلسے کئے گئے۔اس قسم کے حالات میں بعض افسروں کی غلطی سے امرتسر کے ایک پبلک جلسہ میں حکومت نے ایسے حالات میں گولی چلا دی کہ جو یقیناً دانشمندانہ نہیں تھے۔اس پر گویا سارا ملک ناراضگی کے جوش میں حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہو اور پنجاب میں تو ایک گونہ بغاوت کا رنگ پیدا ہو گیا اور ملک کے مختلف حصوں میں مارشل لا کا اجراء ضروری سمجھا گیا۔اس عرصہ میں مسٹر گاندھی نے اس تحریک کی بنیاد ڈالی کہ جب تک ان شکایات کا ازالہ نہ ہو ہندوستانیوں کو حکومت سے عدم تعاون کر کے عملاً قطع تعلق کر لینا چاہئے۔اس مہم نے ملک کے اندر ایک خطر ناک صورت حال پیدا کر دی اور سارا ملک گویا ایک آتش فشاں پہاڑ کا رنگ اختیار کر گیا۔دوسری طرف اسی زمانہ میں یعنی ۱۹۲۰ء میں اور اس کے قریب ہندوستان کے مسلمانوں میں حکومت برطانیہ کے خلاف اس وجہ سے بڑا جوش تھا کہ جنگ عظیم کے بعد ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا اور اسلامی علاقوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیر دیا گیا ہے اور خلافت ایجی ٹیشن کے ماتحت ہندوستان کے مسلمانوں نے بھی حکومت کے ساتھ ترک موالات کا سلسلہ شروع کر کے ایک ہیجان عظیم کی صورت پیدا کر دی۔الغرض یہ دو سال ہندوستان میں ایک عالمگیر ہیجان کے سال تھے۔چونکہ جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہئے جو ملک کے امن کو برباد کرنے والی ہو اور لوگوں کی طبیعتوں میں قانون شکنی کی طرف میلان پیدا کر دےاس لئے حضرت خلیفہ اُسے ثانی نے اس زمانہ میں اپنی جماعت کو پے در پے نصیحت فرمائی کہ وہ ہر قسم کی امن شکن تحریک اور قانون شکنی کے طریق سے کلی طور پر مجتنب رہے بلکہ امن کو قائم کرنے اور قانون شکنی کے سلسلہ کو روکنے میں حکومت کے ساتھ پورا پورا تعاون کرے چنانچہ ان خطر ناک ایام میں جماعت نے اپنے آپ کو ہر قسم کے خطرہ میں ڈال کر حکومت کے ساتھ تعاون کیا اور حکومت نے بھی ایک کھلی پریس کمیونیکے کے ذریعہ جماعت کی ان پر امن خدمات کا اعتراف کیا اور اس بات کو کھلے طور پر تسلیم کیا کہ جماعت احمدیہ کے افراد نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر اپنے امام کی ہدایات پر عمل کیا ہے۔