سلسلہ احمدیہ — Page 322
۳۲۲ میں کافی مفصل بحث کی گئی تھی اور طرح طرح سے جماعت کو اس بات پر ابھارا گیا تھا کہ وہ کسی واجب الاطاعت خلافت پر رضامند نہ ہوں۔جب قادیان میں اس رسالہ کی اشاعت کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ لگا کہ قادیان سے باہر اس رسالہ کی اشاعت نہایت کثرت کے ساتھ کی گئی ہے تو طبعا اس پر بہت فکر پیدا ہوا کہ مبادا یہ رسالہ نا واقف لوگوں کی ٹھوکر کا باعث بن جائے۔اس کا فوری ازالہ وسیع پیمانہ پر تو مشکل تھا مگر قادیان کے حاضر الوقت احمدیوں کی ہدایت کے لئے ایک مختصر سا نوٹ تیار کیا گیا جس میں یہ درج تھا کہ جماعت میں اسلام کی تعلیم اور حضرت مسیح موعود کی وصیت کے مطابق خلافت کا نظام ضروری ہے اور جس طرح حضرت خلیفہ اول جماعت کے مطاع تھے اسی طرح آئندہ خلیفہ بھی مطاع ہوگا اور خلیفہ کے ساتھ کسی قسم کی شرائط وغیرہ طے کرنا یا اس کے خدا داد اختیاروں کو محدود کر نا کسی طرح درست نہیں۔اس نوٹ پر حاضر الوقت لوگوں کے دستخط کرائے گئے تا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہو کہ جماعت کی اکثریت نظام خلافت کے حق میں ہے۔غرض یہ رات بہت سے لوگوں نے انتہائی کرب اور اضطراب کی حالت میں گزاری۔دوسرے دن فریقین میں ایک آخری سمجھوتہ کی کوشش کے خیال سے نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی پر ہر دو فریق کے چند زعماء کی میٹنگ ہوئی جس میں ایک طرف مولوی محمد علی صاحب اوران کے چند رفقا اور دوسری طرف حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور نواب محمد علی خاں صاحب اور بعض دوسرے مؤیدین خلافت شامل ہوئے اس میٹنگ میں منکرین خلافت کو ہر رنگ میں سمجھایا گیا کہ اس وقت سوال صرف اصول کا ہے پس کسی قسم کے ذاتی سوال کو درمیان میں نہ لائیں اور جماعت کے شیرازہ کی قدر کریں۔یہ بھی کہا گیا کہ اگر منکرین خلافت سرے سے خلافت ہی کے اڑانے کے درپے نہ ہوں تو ہم خدا کو حاضر و ناظر جان کر عہد کرتے ہیں کہ مومنوں کی کثرت رائے سے جو بھی خلیفہ منتخب ہو گا خواہ وہ کسی پارٹی کا ہو ہم سب دل و جان سے اس کی خلافت کو قبول کریں گے مگر منکرین خلافت نے اختلافی مسائل کو آڑ بنا کر خلافت کے متعلق ہر قسم کے اتحاد سے انکار کر دیا۔